مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 151 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 151

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 135 مجھے اپنے بیٹوں کی طرح سمجھتے تھے اور اکثر گھر بلا کے بٹھا لیتے تھے۔اسلام آباد میں ہی آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی کتاب ”اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل“ Islam's) (response to Contemporary Issues کا عربی ترجمہ کیا۔جب آپ یہ ترجمہ کر رہے تھے تو مجھے ایک دفعہ ترجمہ پڑھا کر رائے لی۔میں نے عرض کیا کہ اس میں کسی قدر انگریزی محاورہ کا دخل محسوس ہوتا ہے۔آپ نے کچھ توقف کے بعد فرمایا : کہاں ہے؟ میری نشاندہی پر فرمانے لگے بالکل ٹھیک ہے۔ایسے ہی آپ کو لگتا ہو گا۔میں نے عرض کیا کہ یہ کتاب حضور کی ہے اور ترجمہ کرنے والی شخصیت آپ کی ہے۔آپ جو بھی فائنل کریں گے وہی فائنل متصور ہو گا۔آپ نے مجھ سے پوچھا تو میرا کام ہے کہ دیانتداری سے جو رائے بنتی ہے وہ آپ کو دوں۔لہذامیں نے جو محسوس کیا وہ کہہ دیا۔آگے آپ کی مرضی ہے۔اگلے دن مجھے بلا کر کہنے لگے کہ مومن ! میں اپنی بیوی کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تم مجھے عربی سکھاتے ہو۔دو ممتاز ترجمان جب حضور انور نے مجھے رسالہ التقویٰ کا ایڈیٹر بنایا تو میرے پاس چھاپنے کیلئے عربی مواد کی کمی ہوتی تھی۔مکرم حلمی صاحب کو یہاں لندن سے ملک خلیل الرحمن صاحب مرحوم کا حضور انور کے خطبہ جمعہ کا انگریزی ترجمہ ارسال کیا جاتا تھا جس سے علمی صاحب عربی ترجمہ کر کے بھیج دیتے تھے۔میں اس کو اردو کے ساتھ ٹیلی کر کے چھاپ دیتا تھا۔علمی صاحب کے ترجمہ کی ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ ان کو جیسے حضرت خلیفتہ اسیح الرابع کی روح سے ایک تعلق تھا۔وہ حضور کی بات اور اس سے مراد مکمل طور پر سمجھ جاتے تھے اور اس کا بعینہ وہی ترجمہ کرتے تھے جو درحقیقت مطلوب ہوتا تھا۔وہ حضور کا سٹائل اور طرز سمجھ جاتے تھے حتی کہ بعض اوقات مترادفات میں بھی وہی الفاظ استعمال کرتے تھے جو حضور نے اردو میں استعمال کئے ہوتے تھے۔اس میں مکرم ملک خلیل الرحمن صاحب مرحوم کا بھی بڑا دخل ہوتا تھا کہ وہ انگلش ترجمہ اتنا اعلیٰ اور حضورانور کے الفاظ کے قریب کرتے تھے کہ علمی صاحب اس سے عربی میں جو تر جمہ کرتے وہ اصل اُردو کے بھی قریب تر ہوتا تھا۔مکرم نصیر احمد مر صاحب بیان کرتے ہیں کہ : میں حضرت خلیفہ المسح الرابع کے پرائیویٹ