مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 149
133 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ازیں وہ کسی عرب ملک میں اپنے کام کے سلسلہ میں قیام پذیر تھے۔علمی صاحب کے آنے کے باوجود بھی خطبہ جمعہ میں ہی دیتا رہا۔لندن سے ”النصر“ نامی ایک رسالہ وہاں جاتا تھا جس میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے خطبات کا خلاصہ ہوتا تھا۔میں اس کا ترجمہ کرتا تھا اور علمی صاحب اس کو بہتر کر دیا کرتے تھے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تقریبا نیا ترجمہ ہی کر دیا کرتے تھے۔ایک عجیب بات جو میں نے اس عظیم انسان میں دیکھی وہ آج تک کسی اور عرب میں نہیں دیکھی اور وہ یہ کہ وہ بہت بڑے دل کے مالک تھے۔سارا ترجمہ خود کر کے میرے نام لگا دیتے تھے۔بعض اوقات کسی خاص لفظ یا کسی خاص امر میں میں نے اگر کوئی تحقیق کی ہوتی اور علمی صاحب کے سامنے کسی سیاق میں ذکر کر دیتا تو فرمایا کرتے کہ مومن صاحب میں تو آپ سے عربی سیکھتا ہوں۔اور یہ بات ایسی ہے جو کوئی عام عربی نہیں کہ سکتا۔یہ علمی صاحب کی تواضع کا اعلیٰ مقام تھا۔بڑے دل والا انسان حلمی صاحب بڑے کھلے دل کے انسان تھے۔ان میں جود وسخا کی صفت بہت زیادہ تھی۔اگر آپ ان کے ہزاروں کے بھی مقروض ہوں تو علمی صاحب کبھی باتوں یا اشارہ کنایہ میں آپ کو محسوس نہیں ہونے دیتے تھے کہ آپ ان کے مقروض ہیں۔حتی الوسع قرض واپس نہیں مانگتے تھے۔اور اگر بفرض محال مانگنا پڑ بھی جائے تو اتنے باشرم و حیا تھے کہ خود کبھی نہیں مانگا۔بلکہ کسی کی وساطت سے یہ بات کہتے تھے۔ان کی اس صفت کی وجہ سے انہوں نے کافی نقصان بھی اٹھایا۔حلمی صاحب کا دینی تربیت کا انوکھا انداز حلمی صاحب اپنے کام کے سلسلہ میں کئی عرب ممالک میں رہے تھے اور جب میں مصر گیا تو اس وقت وہ ابوظہبی میں تھے۔آپ کی پہلی بیوی فوت ہوگئی تو آپ نے اپنی بیوی کی چھوٹی بہن سے دوسری شادی کر لی۔آپ کی اس بیوی نے حج کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔اس وقت تک وہ غیر احمدی ہی تھیں اور حجاب وغیرہ نہیں اوڑھتی تھیں۔علمی صاحب نے ان سے کہا کہ خانہ کعبہ تو خدا کا گھر ہے اس کے کچھ آداب ہیں۔اس لئے اگر تم وعدہ کرو کہ حجاب پہنو گی تو میں تمہیں حج کے لئے لے جاتا ہوں۔چنانچہ اس طرح انہوں نے حجاب پہننا شروع کر دیا۔پھر