مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 145
129 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم سے مجھے ایک پیرا گراف پڑھنے کیلئے کہا۔چونکہ خدا کے فضل سے جامعہ میں عربی کا معیار بہت اچھا ہوتا ہے اور میں نے تو پھر عر بی تخصص بھی مکرم ملک مبارک احمد صاحب سے پڑھا تھا اس لئے میں نے بڑی آسانی سے اسے پڑھ لیا تو وہ بولے انہیں ہماری کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔مکرم تھی ناصف صاحب پھر ایک اور احمدی اس وقت وہاں موجود تھے جن کی عمر اس وقت 75 یا 80 سال ہوگی۔ان کا نام فتحی ناصف صاحب تھا۔ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو اس وقت از ہر میں پڑھتا تھا۔فتحی صاحب خود تو کبھی کبھار آ جایا کرتے تھے لیکن ان کا بیٹا کبھی نہیں آیا۔عموما ان کی باتوں میں ایک ڈر سا تھا اس لئے اکثر پیچھے پیچھے ہی رہتے تھے۔حالانکہ اس وقت وہ سب سے پرانے احمدی تھے۔غالباً حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب اور مولانا ابوالعطاء صاحب کے زمانہ کے احمدیوں میں سے وہی باقی تھے۔مکرم محمد بسیونی صاحب مکرم محمد بسیونی صاحب سابقہ صدر جماعت مصر ان دنوں بیمار تھے اور اپنی بہن کے پاس رہتے تھے کیونکہ انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔میں نے عمر و عبد الغفار صاحب سے محترم بسیونی صاحب سے ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔چنانچہ ہم ملنے کے لئے گئے لیکن ایک کمرے میں ہی بیٹھ کر واپس آگئے کیونکہ ان کی طبیعت اس وقت بہت خراب تھی۔پھر کچھ عرصہ کے بعد ان کی وفات ہوگئی۔یوں ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔مکرم عمرو عبد الغفار صاحب نے ان کی بہن سے ان کے بعض تفاسیر اور دیگر کتب وغیرہ کے تراجم لے کر محفوظ کر لئے تھے جو بسیونی صاحب نے اپنی صحت کی حالت میں کئے تھے۔بعد میں ان تراجم میں سے بعض چھپ بھی گئے۔قبل ازیں ان کے یہ تراجم البشری میں بکثرت چھپتے رہے ہیں۔بہر حال ایک بات جو یہاں کہنی چاہئے یہ ہے کہ اگر جماعت مصر کے چند لوگ جماعت کے ساتھ چھٹے رہے یا وقتا فوقتا وہاں کوئی اکا دُکا احمدی ہوتے رہے تو اس میں مکرم بسیونی