مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 138
122 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم مساجد میں ہوتا ہے۔یہ مسجد حضرت امام ابو حنیفہ کی مسجد بھی کہلاتی ہے کیونکہ اس کے جوار میں امام ابوحنیفہ کا مزار ہے اور مسجد کے ساتھ دینی مدرسہ بھی ہے۔اس مسجد کے ساتھ ایک بلند مینار پر ایک بڑی گھڑی لگی ہوئی ہے جو دور سے نظر آتی ہے۔2003ء میں مغربی افواج کی بمباری سے گھڑی والا مینار کئی جگہ سے ٹوٹ گیا تھا اور حضرت امام ابو حنیفہ کے مزار کو بھی نقصان پہنچا تھا۔تاہم اس مسجد کے ماحول میں رہنے والے مسلمانوں نے مل کر باہمی مدد سے دوبارہ ان حصوں کی تی تعمیر کا کام جلد مکمل کر لیا۔اُردن کے شریعت کالج کے پرنسپل کی رائے مندرجہ بالا استفسار University of Jordan میں شریعت کالج کے پرنسپل جناب ڈاکٹر ابراہیم زید الکیلانی صاحب کو بھی ارسال کیا گیا جنہوں نے اس کا ایک اصولی جواب دیا جو یہ ہے کہ: 1۔جو اسلامی حکومت میں یا اسلامی معاشرہ میں شریعت کے احکام پر کار بند ہوا سے احکام اللہ کا پابند سمجھا جائے گا۔2۔شریعت کی مقرر کردہ حدود اور سزاؤں کا نافذ کرنا صرف اور صرف حکومت یا حکومتی اداروں کا کام ہے، لہذ ا فردی طور پر لوگوں کو ان سزاؤں کو لاگو کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔3 صحیح العقیدہ مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ احکام اللہ کی ادائیگی پر عملی طور پر کار بند ہو جائے۔از مجله التقوی شمارہ جنوری 1989 صفحہ 29) اس فتویٰ سے بھی اتنی بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ جو کوئی اپنے آپ کو اسلامی احکام کا پابند کرتا ہے اور مسلمان کہتا ہے اسے ویسے ہی سمجھا جائے گا اس کے باوجود اگر کسی مسلمان کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ فلاں شخص عقائد کے لحاظ صحیح مسلمان نہیں بلکہ خواہ اس کی نظر میں کافر ہی کیوں نہ ہو تب بھی اس کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ اٹھ کر کسی کو واجب القتل قرار دے دے اور اس فتویٰ کی تنفیذ کرنے والوں کو جنت کی بشارتیں دیتا پھرے۔