مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 137 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 137

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم عبد الله الشيخلي خطيب جامع الإمام الأعظم 121 مجلة التقوى عدد تشرين الثانی 1988 صفحہ 30 ترجمہ: جس شخص کا آپ نے اپنے سوال میں ذکر کیا ہے کہ وہ دیگر مسلمانوں کی طرح لا إله إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کی شہادت دیتا ہے اور اپنے گلے میں یا سینے پر قرآن کریم کی کوئی آیت یا کلمہ طیبہ یا دیگر اسلامی شعائر کو آویزاں کرتا ہے، تو ایسا شخص مسلمان گردانا جائے گا اور اس پر شادی بیاہ اور طلاق اور وراثت جیسے تمام اسلامی احکام لاگو ہوں گے۔وہ جب فوت ہوگا تو اس کا جنازہ اسلامی طرز پر ادا کیا جائے گا اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔اسی طرح اگر وہ کسی ایسے فعل کا مرتکب ہو گا جس کی سزا اسلامی حدود میں سے کوئی حد ہو تو اس پر ان شرعی حدود کا اطلاق بھی ہوگا۔ہم اس معاملہ میں صرف ظاہری حالت و اعمال کو دیکھ کر ہی رائے دے سکتے ہیں جبکہ باطن کا علم خدا کو ہے اور یہ اس پر ہی چھوڑ دینا چاہئے۔یہ فتوی کس قدر حق پر مبنی ہے۔اور کس قدر احتیاط اور خدا خوفی سے فتویٰ دینے والے نے یہ خیال رکھا ہے کہ کہیں اس کی ہلکی سی غلط فہمی سے ایک شخص جو کلمہ طیبہ کو سینے سے لگائے پھرتا ہے اسلام کے دائرہ سے باہر نہ ہو جائے۔حالانکہ سوال میں واضح طور پر لکھا تھا کہ وہ غیر مسلم ہے۔لیکن اسکے اعمال بول رہے ہیں کہ کلمہ طیبہ پڑھتا ہے اس سے محبت رکھتا ہے اور پھر اسلام کا اعلان کرنا کس کو کہیں گے؟ دوسری اہم بات جس کا اس فتویٰ میں ذکر ہے وہ یہ کہ انسان ہمیشہ ظاہری اعمال پر ہی محاکمہ کر سکتا ہے اسے لوگوں کی نیتوں کی ٹوہ میں لگنے کی ضرورت نہیں ہے۔مثلاً یہ کہنا کہ احمدی زبان سے کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں مگر دل سے محمد رسول اللہ کی بجائے مرزا غلام احمد رسول اللہ کہتے ہیں، یہ سراسر تجاوز اور لوگوں کی نیتوں پر حملہ ہے۔یہ خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا کہ کسی کی نیت میں کیا ہے۔انسانوں کو حکم ہے کہ دین کے معاملہ میں ظاہر کے مطابق فیصلے کریں۔اللہ تعالیٰ جناب عبد اللہ اشخیلی صاحب کو اس کلمہ حق کی اعلیٰ جزاء عطا فرمائے۔آمین۔یہاں ضمنا یہ ذکر کرتے جائیں کہ جامع الإمام الأعظم کا شمار بغداد کی بڑی اور اہم