مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 132
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 116 مکرم مصطفی ثابت صاحب بیان کرتے ہیں کہ بعد میں انہوں نے بھی عرب ممالک کا دورہ کی کیا اور وہاں سے لوگوں کے پتہ جات لا کر لٹریچر روانہ کیا گیا۔بعض کی طرف سے تو اچھا جواب آیا لیکن بعض نے لکھا کہ ہمیں کچھ نہ بھیجوایا جائے۔سعودی عرب کلمہ مٹانے کی سازش کا حصہ نہیں ہوسکتا حضور انور رحمہ اللہ کی ہجرت کے بعد بھی بلکہ آج تک پاکستان میں احمدیوں کی مساجد سے کلمہ طیبہ کو مٹانے اور ان کے سینوں سے کلمہ طیبہ کے بیجز نوچنے کی کاروائیاں جاری رہیں۔ان کا روائیوں کے بارہ میں پاکستان کے بعض حلقوں میں یہ بھی مشہور کیا جانے لگا کہ ان کے پیچھے سعودی عرب کی حکومت ہے اور اس کے ایماء اور خرچ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے حضور رحمہ اللہ نے سعودی عرب کی حکومت پر اپنے حسن ظن کا اظہار فرمایا اور ان کے اس سازش میں ملوث ہونے کے خیال کو بعید از قیاس قرار دیا۔آپ نے فرمایا: موجودہ حکومت کے متعلق تو میں جانتا نہیں کہ وہ کیا باتیں ہیں کس حد تک اور کیوں وہ یہ باتیں ہونے دے رہے ہیں یا ان کو ان باتوں کا علم نہیں ہے لیکن سعودی عرب کے متعلق تو میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ کلمہ توحید مٹانے کی کسی سازش میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔سعودی عرب کی حکومت تو وہ ہے جو اس وقت منصہ شہود پر ابھری جب شرک نے خانہ کعبہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا، جب نہایت ہی ناروا حرکتیں ہو رہی تھیں خانہ کعبہ میں جن کا اسلام سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔اس وقت ان کے جد امجد نے عظیم الشان کارنامہ اسلام کی خدمت کا یہ سر انجام دیا کہ مولا نا عبد الوھاب کے ساتھ مل کر شرک کے قلع قمع کرنے کی ایک تحریک چلائی جس نے رفتہ رفتہ پھیلتے سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔پہلے سرزمین حجاز سے وہ آواز بلند ہوئی اور پھیلتے پھیلتے وہ حجاز کی زمین سے باہر نکل کر اردو گرد کے علاقوں میں بھی پھیل گئی اور اتنی عظیم الشان قوت نصیب ہوئی کلمہ توحید کے نتیجہ میں کہ آج یہ جتنی دولتوں کے مالک بنے ہوئے ہیں ، ساری دنیا میں جتنا ان کا نفوذ ہے وہ تمام تر اگر یہ ادنی سا غور کریں تو کلمہ توحید کی برکت سے ہے۔اگر تو حید کی حفاظت میں یہ جہاد نہ