مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 133 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 133

117 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔۔جلد دوم شروع کرتے تو ناممکن تھا ان کے لئے خانہ کعبہ اور حجاز کی سرزمین پر قابض ہو جاتے۔جہاں سے آج تیل کے چشمے اہلے ہیں اور ہر گز بعید نہیں کہ اللہ جو تو حید کے لئے بے انتہا غیرت رکھتا ہے اسی ایک نیکی کے عوض میں کہ کسی زمانہ میں ان لوگوں نے کلمہ توحید کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی تھی آج ان کو اس قدر بے شمار دولتوں سے نوازا ہو۔پس کیسے ممکن ہے، کیسے ہم یقین کریں کہ سعودی عرب کا یہ خاندان جو توحید کے نام پر قائم ہوا اور توحید کے نام پر اس نے جو کچھ پایا، پایا تو حید ہی کی برکت اور توحید ہی کی خیرات آج تک کھاتا چلا جارہا ہے، آج ایسا سر پھرا ہو جائے گا کہ کلمہ توحید مٹانے کی سازشیں خانہ کعبہ سے اٹھیں گی۔یہ ناممکن ہے ہم جانتے ہیں کہ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ہمیں تجربہ ہے کہ پاکستان کا مولوی ایک اور قسم کی مخلوق ہے اگر ہر مولوی نہیں تو دیوبندی مولوی کے کردار پہچانتے ہیں۔اتنا جھوٹ بولتے ہیں جیسے شیر مادر بچہ پیتا ہے اس طرح جھوٹ بولتے چلے جاتے ہیں۔کسی نے منیر انکوائری رپورٹ پڑھی ہو تو وہ ان کے کردار کو شاید پہچان سکے۔آپ پڑھ کر دیکھیں کس طرح جسٹس منیر اور جسٹس کیانی جو احمدی نہیں تھے اور بڑے عظیم الشان جج تھے ان کی عدالت کے قصے آج تک مشہور ہیں ساری دنیا میں ان کی قوت انصاف اور عدلیہ معاملات میں علم کی شہرت ہے، وہ بڑی بیبا کی اور جرات سے لکھتے ہیں کہ یہ تو بکاؤ لوگ تھے جو ہمیشہ پاکستان کی دشمن کی طاقتوں کے ہاتھ میں کھیلتے رہے اور جب بھی پاکستان دشمن طاقتوں سے انہوں نے پیسے حاصل کئے پاکستان کے اور دوسرے تمام مسلمانوں کے مفادات کے خلاف پک جاتے ر ہے۔وہی لوگ ہیں یہ جو مسجد شہید گنج کے غازی ہیں لیکن عجیب بد قسمتی ہے قوم کی کہ اتنی کچی یاد داشت اتنی کمزور یادداشت کہ ہر دفعہ انہیں بھولتی چلی جارہی ہے۔لیکن احمدی کی یاد داشت تو اتنی کمزور نہیں ہے اس لئے میں کسی قیمت پر بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ سعودی عرب کلمہ تو حید کو مٹانے کی سازش میں ان کی پشت پناہی کر رہا ہو۔جھوٹ بول رہے ہیں، ان کے ساتھ بھی جھوٹ بولتے ہوں گے ان کو جا کر کچھ اور کہانیاں بتاتے ہوں گے اس لئے وہ اپنی کو سادگی میں اور کم علمی میں ممکن ہے ان کو روپیہ دے رہے ہوں اس سے میں انکار نہیں کرتا کیونکہ وہ ساری دنیا میں جہاں بھی وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی خدمت ہورہی ہے وہ اپنا روپیہ تقسیم کر رہے ہیں۔