مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 131
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم مرتبہ اس بارہ میں فرمایا: 115 اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں تبلیغ کی ایک نئی رو چل پڑی ہے اور ایسے ممالک جہاں بہت ہی سست رفتار تھی وہاں بھی خدا کے فضل سے بڑی تیزی آرہی ہے اور ایسی قومیں جن میں احمدیت کا نفوذ بہت ہلکا تھاست روی پائی جاتی تھی ان میں بھی بڑی تیزی سے اب جماعت کی طرف رجوع ہو رہا ہے۔چنانچہ گذشتہ ایک دو ماہ کے اندر عربی بولنے والی قوموں میں سے خدا کے فضل سے 27 بیعتیں موصول ہوئی ہیں اور اہل عرب خالص بھی ہیں اور شمالی افریقہ کے عرب بھی اس میں شامل ہیں تو یہ رجحان پہلے نظر نہیں آتا تھا۔یورپ کے دو ممالک میں بلکہ تین میں خدا کے فضل سے عربوں نے وہاں بیعتیں کیں اور بڑے مخلص ہیں۔ڈنمارک میں تو اوپر تلے دو عرب نوجوانوں نے بیعتیں کی ہیں اور بڑی تیزی کے ساتھ وہ اخلاص میں ترقی کر رہے ہیں، لٹریچر لے رہے ہیں، توجہ دلا رہے ہیں، مشورے دے رہے ہیں کہ کس طرح ہماری قوم میں تبلیغ ہونی چاہئے اور اچھے خاصے وہاں کے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ خاندانوں کے افراد ہیں۔تو یہ بھی ایک اللہ کا غیر معمولی فضل ہے جس کو نظر میں رکھنا چاہئے۔“ (خطبه جمعه فرموده 24 را گست 1984 ء) عرب ممالک کی بڑی شخصیات سے خط و کتابت کی کوشش ازاں بعد حضور نے عرب ممالک میں تبلیغ کے سلسلہ کو وسیع کرتے ہوئے پہلے ان ممالک میں بعض عرب شخصیات کے پتے منگوائے تا کہ ان کو لٹریچر بھیجا جاسکے، اس سلسلہ میں حضور انور رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اہل عرب کے پتے مانگے تھے تو انہوں نے وہ ڈائریکٹری اٹھا کے یا شاید عرب Embassies کی کتابیں منگوا کر ان سے پتے نوٹ کر کے بھیج دیئے حالانکہ اس قسم کے پتے نہیں چاہئیں۔پتے ایسے چاہئیں کہ جہاں پتہ بھیجنے والے کی نظر ہو کہ یہ کس قسم کا آدمی ہے، عمر اس کی کتنی ہے، رجحان کیا ہیں؟ ضروری تو نہیں کہ جتنے پتے آپ بھیجیں ان سب کولٹریچر بھیجوانا مناسب بھی ہو۔اس لئے یہاں بھی کافی چھان بین کرنی پڑتی ہے۔( خطبه جمعه فرموده 26 اکتوبر 1984ء)