مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 117 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 117

00000 101 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ہونی شروع ہو جاتی ہے، ایک جلن ایک تکلیف جو بڑھنے لگتی ہے اور اس درجہ تک پھر وہ پہنچ جاتی ہے کہ اندرونی دباؤ اس کو پھٹنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ایسا وقت آتا ہے کہ انہی حقیر ذروں سے وہ آگ پھوٹ پڑتی ہے جو ان مالکوں کو ہلاک کر دیتی ہے یعنی ان غریب اور پس ماندہ قوموں کو تم یہ نہ سمجھو کہ خطرہ سے خالی ہیں، انکے اندراندرونی دباؤ بڑھے گا۔جتنا زیادہ تم ان کو توڑتے چلے جاؤ گے اتنا زیادہ اندرونی نفرتیں آگ کی شکل اختیار کرنے لگ جائیں گی ، چنانچہ اس آگ کے اکٹھا ہونے کے واضح شواہد مشرقی دنیا میں بھی مل رہے ہیں اور مغربی دنیا میں بھی مل رہے ہیں۔اب مشرق وسطی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہی ہو رہا ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ کمزور ہیں نہتے ہیں بیچارے بے بس ہیں اندرونی تکلیف اور بے بسی کی آگ نے ان کے اندر ایک ایسی قوت پیدا کر دی ہے، ایسے ہو گئے ہیں، ایسا مقام بھی آرہا ہے کہ وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے ہم ہلاک ہو جائیں گے لیکن تمہیں بھی ساتھ ہلاک کر دیں گے۔چنانچہ لبنان میں جنبلات نے جو اعلان کیا ہے یہی کیا ہے۔اس نے کہا کہ تمہاری جو پالیسیز ہیں تمہاری سیاستیں انہوں نے لبنان کو پارہ پارہ کیا ہوا ہے اور انصاف نہیں ہے اس میں اس لئے ہم تمہیں یہ اب نوٹس دیتے ہیں کہ تمہاری بات نہیں چلے گی۔اگر لبنان کو ہلاک ہونا پڑے سارے کو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں اب وہ درجہ پہنچ چکا ہے کہ جہاں عَمَدٍ مُمُدَّدَة بن چکے ہیں وہ یعنی اندرونی پریشرز کے ذریعے جب قومیں Desprit ہو جائیں اندرونی دباؤ کے نتیجہ میں جب وہ کر گزرنے پر آمادہ ہو جائیں تو اس وقت کا نقشه عَمَدٍ مُمُدَّدَة کھینچتا ہے اور یہ جمع کی ہوئی آگ اور دیر کی حسرتیں، حسد اور تکلیفیں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو اس وقت یہ صورت پیدا ہوتی ہے۔“ خطبہ جمعہ فرموده 3 فروری 1984 ء) بعد کے واقعات حضور کی اس تفسیر و تحلیل کی صداقت اور آپ کی عظیم سیاسی بصیرت کی شہادت دے رہے ہیں۔افسوس کہ عالمی طاقتوں نے اس ”صدائے فقیرانہ حق آشنا“ کو نہ پہنچانا اور عالمی امن کو بچانے کے لئے کوئی کردارا دا نہ کیا۔