مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 103 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 103

89 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم حضور کے ارشاد پر مکرم ملک مبارک احمد صاحب مرحوم نے عربی زبان میں یہ رسالہ تیار کیا جس کا نام ”الحمد لله نحن مسلمون بفضل الله “ تھا۔اسی طرح ملک صاحب مرحوم نے اسی عرصہ میں مفتی محمود کے ایک معاندانہ پمفلٹ کا رڈ بھی تحریر کیا جو المهدى الحقانی في الرد على المتنبئ القادیانی “ کے نام سے شائع ہوا۔مسئلہ شرق اوسط اور عالمی جنگ کے امکانات مسئلہ مشرق وسطی کئی دہائیوں سے عالمی امن کے لئے خطرات کا موجب بنا ہوا ہے۔اس مسئلہ کی ابتداء سے قبل ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاما بتا دیا تھا اور حضرت خلیفہ ثانی نے ان الہامات کی روشنی میں بار ہا اپنے خطبات اور خطابات میں اس کی سنگینی کی طرف متنبہ فرمایا، اور خلیفہ ثالث رحمہ اللہ نے بھی احمدیوں کو بھی اور تمام عالم اسلامی اور عالمی برادری کو اس مسئلہ کے حل کرنے کی طرف متوجہ فرمایا۔حضور فرماتے ہیں: اس وقت ویسے تو دنیا کو بہت سے مسائل در پیش ہیں لیکن فوری طور پر عالمگیر نوعیت کے دو مسئلے بڑے واضح ہیں جن کی طرف آج کا انسان نوع انسانی کی حیثیت سے بھی اور انسانیت کا نچوڑ اور انسان کامل کا متبع ہونے کے لحاظ سے بھی اجتماعی طور پر غور کر رہا ہے۔ان میں سے ایک مسئله مشرق وسطی میں پیدا شدہ فساد کے حالات کو دور کرنے کی کوشش سے متعلق ہے۔بہر حال دنیا کے امن اور سلامتی کے لئے یہ ایک بہت بڑا اور نہایت ہی اہم مسئلہ ہے۔ہم احمدیوں کو یہ مسئلہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کیونکہ وہ جنگ جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خبر دی گئی تھی اور جس سے یہ خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے (جیسا کہ بتایا گیا ہے ) کہ خطہ ہائے ارض سے زندگی (صرف انسانی زندگی نہیں بلکہ ہر قسم کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے کیونکہ لوگوں نے ایٹم اور ہائیڈروجن بم وغیرہ قسم کے مہلک ہتھیار ایجاد کر رکھے ہیں۔اس بھیانک جنگ کی ( خدا اس سے محفوظ رکھے ) اگر ابتدا ہوئی تو اس کی ابتدا انہی علاقوں سے ہوگی جہاں آجکل فساد پیدا ہو رہا ہے اور مسلمان علاقوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی تھی اس وقت شام کا جغرافیہ کچھ اور تھا اور آج کچھ اور ہے۔چنانچہ پیشگوئیوں میں یہ بتایا گیا کہ ارضِ شام سے اس جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں یعنی شام