مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 102
88 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کریں گے تو ہم ان کا ہاتھ پکڑ لیں گے اور خادم سے یہی سلوک کیا جاتا ہے اور اس وقت وہ غلطی کر رہے ہیں اور ہمارا ہا تھ ان کی طرف نہیں بڑھ رہا حالانکہ ہمارا فرض تھا اور ہمارا حق بھی ہے کہ ہم ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور کہیں کہ اے ہمارے خادم یہ تو کیا کر رہا ہے (یعنی اس کی تصحیح کریں) بہر حال سب علوم ہمارے خادم ہیں اور ہم ان خادموں سے بھی خدمت لیں گے۔اور اس طرح سب علوم کی باتیں آجائیں گی فلسفہ کی غلطیاں بھی ہم نکالیں گے ایگریکلچر AGRICULTURE زراعت کے متعلق بھی ہم لوگوں کو کہیں گے کہ یہ یہ کام کرو تا دنیا میں بھی خوشحالی تمہیں نصیب ہو۔انشاء اللہ یہ کام تو ہم کریں گے لیکن گانے اور ڈرامے اور اس قسم کی دوسری جھوٹی باتیں وہاں نہیں ہوں گی اور اس طرح ایک ریڈیوڈ نیا میں ایسا ہو گا جہاں اس قسم کی کوئی لغو بات نہیں ہو گی اور شاید بعض لوگ اس ریڈیو اسٹیشن کو هُمُ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ (المومنون: 4) کہنا شروع خطبه جمعه فرموده 19 جنوری 1970) کر دیں۔یہ عجیب بات ہے کہ حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ کی ریڈیو کے بارہ میں اس خواہش کے مطابق ایم ٹی اے کا یورپ سے آغاز ہوا اور شروع میں ہی مشرق وسطی اور عرب ممالک کے لئے پروگرام لقاء مع العرب شروع ہوا۔بعد ازاں 24 گھنٹوں کی عربی نشریات پر مش علیحدہ چینل بھی کھل گیا۔نَحْنُ مُسْلِمُون مشتمل حضرت خلیفتہ امسح الثالث رحمہ اللہ نے 27 مارچ 1970 کو مشاورت کے موقعہ پر اپنے خطاب میں فرمایا: ”ابھی مجھے خیال آیا کہ جب عرب ممالک میں اتنی توجہ ہے اور اتنی غلط باتیں مخالفین نے پھیلائی ہوئی ہیں، اس لئے ان ملکوں میں کم از کم ایک چھوٹا سا رسالہ، جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی عرب کتب کے اقتباسات پر مشتمل ہو، وہ شائع کر دینا چاہئے اور بڑی کثرت سے اسے پھیلانا چاہئے “ چنانچہ یہ چھوٹا سا رسالہ تیار کیا گیا جو بمشکل چالیس پچاس صفحات پر مشتمل۔ہے۔تحریک جدید۔ایک الہی تحریک ، جلد ۴ ص 727)