مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 101 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 101

87 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم دوست بیرونی ممالک سے آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک دوست کینیڈا سے آئے ہوئے تھے وہ وہاں ٹیلی ویژن میں کام کرتے ہیں میں نے ان کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہاں جا کر فوری طور پر اس کے متعلق ضروری معلومات حاصل کریں۔پاکستان میں اس اسٹیشن کی اجازت نہیں مل سکتی کیونکہ ہمارا قانون ایسا ہے کہ یہاں کسی پرائیویٹ ادارہ کو ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت نہیں لیکن بعض ممالک ایسے ہیں جن میں اس پر کوئی قانونی پابندی نہیں جیسے امریکہ اور بعض ایسے ممالک ہیں جن میں گویا قانونی پابندی تو ہے لیکن اس کی اجازت آسانی اور سہولت کے ساتھ مل جاتی ہے جیسے مغربی افریقہ کے ممالک میں سے نائیجیریا، گیمبیا، غانا یا سیرالیون ہیں امید ہے کہ ان ممالک میں سے کسی ایک ملک میں ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت مل جائے گی۔اس وقت دنیا کے دلوں کا کیا حال ہے اس کا علم نہ تو صحیح طور پر مجھے ہے اور نہ آپ کو ہے لیکن میرے دل میں جو خواہش اور تڑپ پیدا کی گئی ہے اس سے میں یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں کہ اللہ کے علم غیب میں دُنیا کے دل کی یہ کیفیت ہے کہ اگر اللہ اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ان کے کانوں تک پہنچایا جائے تو وہ سنیں گے اور غور کریں گے ورنہ یہ خواہش میرے دل میں پیدا ہی نہ کی جاتی۔دوست دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان جلدی پیدا کر دے۔دل تو یہی چاہتا ہے کہ اسی سال کے اندر اندر یہ کام ہو جائے لیکن ہر چیز ایک وقت چاہتی ہے بہر حال جب بھی خدا چاہے یہ کام جلد سے جلد ہو جائے اور ہم اپنی آنکھوں سے یہ دیکھیں کہ یہ کام ہو گیا ہے اور ہمارے کان چوبیس گھنٹے عربی میں اور انگریزی میں اور جرمن میں اور فرانسیسی میں اور اُردو وغیرہ وغیرہ میں اللہ اور اس کے رسول کی باتیں سننے والے ہوں۔گانا وغیرہ بدمزگی پیدا نہ کر رہا ہو اور اسی طرح کی اور فضولیات بھی بیچ میں نہ ہوں۔علم اسلام کا ورثہ ہے کسی اور کا نہیں اس لئے علمی باتیں تو وہاں ہوں گی مثلاً ایگری کلچر (AGRICULTURE) زراعت کے متعلق ہم بولیں گے۔اسی طرح دوسرے علوم ہیں ان کے متعلق بھی ہم بولیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے کہ وہ تمام علوم سے خادمانہ کام لے سکے سارے علوم ہی ہمارے خادم ہیں۔آج کا فلسفہ بھی ہمارا خادم ہے۔آج کی تی سائنس بھی ہماری خادم ہے۔آج کی تاریخ کے اصول بھی ہمارے خادم ہیں۔جب یہ للہ به غلطی