مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 87
73 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کیا جائے۔چنانچہ مورخہ 29 جون کو جناب مسعود احمد صاحب امام مسجد فرانکفورٹ اور احمدی احباب وقت مقررہ سے نصف گھنٹہ قبل ہی خیمہ تقریر کے باہر کچھ فاصلے پر کھڑے ہو گئے اور مطبوعہ خط کی تقسیم شروع کر دی جس سے ہر طرف ایک زبردست ہلچل سی پیدا ہوگئی۔خیال تھا کہ اپنی تقریر میں پادری صاحب اس دعوت کا ذکر کریں گے لیکن باوجود اس کے کہ سامعین میں سے تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں خط تھا پادری صاحب نے قطعاً خط کا ذکر نہ کیا۔البتہ ان کی تقریر میں وہ پہلا سا جوش و خروش نہ تھا۔تقریر کا اکثر حصہ اسلامی ممالک کے متعلق من گھڑت قصے سنا کر ختم کر دیا۔اگلے روز پانچ بجے شام پادری صاحب کی خیمہ کے اندر تقریر تھی۔احمدی احباب دوبارہ خیمہ کے قریب جا کھڑے ہوئے کہ اسی اثناء میں ڈاکٹر سیموئیل کی موٹر کار کچھ فاصلہ پر آ کر رکی۔مبلغ احمدیت مسعود احمد صاحب جہلمی آگے بڑھے اور ڈاکٹر صاحب سے خط کے جواب کی بابت دریافت کیا۔وہ چلتے چلتے کہنے لگئے ” میری تقریر سنیں ، جہلمی صاحب نے کہا: جناب تقریریں تو ہم نے آپ کی پہلے بھی سنی ہیں ان میں تو آپ نے ہمارے خط کا ذکر تک نہیں کیا۔اتنے میں وہ خیمہ کے اندر داخل ہو گئے۔مبلغ جرمنی نے سوچا کہ اب مزید بات چیت مناسب نہیں۔لیکن عرب احمدی دوست ابراہیم عودہ صاحب تقریر کے بعد ڈاکٹر صاحب کے پاس چلے گئے۔ڈاکٹر صاحب نے مصروفیت کا عذر پیش کر کے ٹیلیفون پر وقت مقرر کرنے کو کہا۔لیکن ابراہیم عودہ کی صاحب کے اصرار پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ابھی میں نے بعض لوگوں کو دعا کے لئے بلایا ہے۔دعا سے فراغت کے بعد آپ مل لیں۔کوئی پون گھنٹہ تک دعا جاری رہی۔اس کے بعد ملحقہ چھوٹے خیمہ میں ڈاکٹر صاحب ابراہیم عودہ صاحب کے پاس بیٹھ گئے۔عودہ صاحب نے انہیں نہایت موثر رنگ میں تحریک کی کہ یہ فیصلہ کی بڑی آسان راہ ہے۔آپ یہ دعوت مقابلہ قبول فرمالیں مگر ڈاکٹر صاحب نے دوٹوک جواب دیا کہ جس دن سے مجھے یہ خط ملا ہے میں اس دن سے مقابلہ کی اجازت کے لئے خداوند یسوع مسیح سے دعا کر رہا ہوں لیکن ہر روز جواب آتا ہے: ”نہیں“۔اب کل ہی جب انہوں نے یہ خط تقسیم کیا تو میں نے پھر دعا کی لیکن جواب ملا : نہیں تم اپنا کام کرتے جاؤ ان کی طرف مت دھیان دو۔“ اس پر عودہ صاحب نے کہا تو پھر آپ صاف صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ آپ کو اس امر 66