مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 86 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 86

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 72 کرسچن چرچ نے ایک با اثر مقامی اخبار میں ڈاکٹر سیموئل کی تصویر کے ساتھ بڑے طمطراق سے اعلان شائع کیا کہ آپ فرانکفورٹ شہر میں ہر شام مسلسل پندرہ روز تک لیکچر دیں گے۔نیز لکھا کہ زمانہ حاضر کے عظیم مسیحی منار ڈاکٹر سیموئل خداوند یسوع کے عظیم تصرف کے ساتھ انجیل کی منادی کرتے ہیں اور ان کی تقاریر سے مشرق وسطی، افریقہ، یورپ اور امریکہ میں زبردست بیداری کے آثار پیدا ہورہے ہیں۔مبلغ احمدیت مسعود احمد صاحب جہلمی نے 17 جون کو ڈاکٹر صاحب کا لیکچر سنا جس میں انہوں نے مسیح کے خون، دنیا کی نجات اور الوہیت مسیح وغیرہ مسائل بیان کئے اور بڑے پر جوش انداز میں اپنے مشن اور اپنے دوروں کی کامیابی کا ذکر کیا۔مکرم مسعود احمد صاحب جہلمی نے اگلے روز اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے بذریعہ خط پادری صاحب کو دعوت دی کہ وہ حق و باطل کا فیصلہ کرنے کے لئے مرد میدان بنیں اور دوستانہ فضا میں تبادلہ خیالات کرنے کے علاوہ قبولیت دعا کا ان سے روحانی مقابلہ بھی کر لیں۔مسعود احمد صاحب جہلمی نے اس دعوت مقابلہ کے سلسلہ میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے لکھا جس پر حضور نے تحریر فرمایا۔اگر اُس نے دعوت مقابلہ کو قبول کیا تو شکست کھائے گا۔انشاء اللہ۔آپ جرات سے مقابلہ کریں۔اگر ضرورت محسوس کریں تو زیورک سے چوہدری مشتاق احمد صاحب کو بھی بلالیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی تائید و نصرت فرمائے۔آمین۔“ جب حضور کے حسب ہدایت یہ جواب تیار ہو کر برائے دستخط حضور کی خدمت میں پیش ہوا تو آپ نے اپنے قلم مبارک سے مزید لکھا۔انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔“ ڈاکٹر سیموئیل کی طرف سے ہفتہ بھر جواب کا انتظار کیا گیا۔لیکن جواب نہ آنا تھا، نہ ہی آیا۔انتظار کا وقت ختم ہونے پر خط کا جرمن ترجمہ خاصی تعداد میں شائع کر دیا گیا اور اس پر نمایاں حروف میں لکھا گیا۔ڈاکٹر سیموئیل کے نام ایک خط جس کے جواب کا ابھی تک انتظار ہے“ اور پروگرام یہ بنایا گیا کہ پندرہ روزہ تقاریر کے آخری دو ایام مورخہ 29۔30 جون یعنی ہفتہ اور اتوار کے روز جبکہ حاضرین کی تعداد بھی نسبتاً زیادہ ہوتی تھی یہ خط خیمہ تقریر کے باہر تق