مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 83 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 83

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 69 69 ہم ذکر کر آئے ہیں کہ خلافت ثالثہ کے عہد مبارک میں عرب دنیا میں ایسے سیاسی حالات پیدا ہوئے جن کا گہرا اثر دینی جماعتوں اور ان کی سرگرمیوں پر بھی ہوا اور سب سے زیادہ نقصان جماعت احمدیہ کو ہوا جس کی تبلیغی سرگرمیوں پر قدغن لگا دی گئی اور کئی جگہ جماعت کے مراکز کو بند کر دیا گیا اور احمدیوں کو زدوکوب کر کے احمدیت سے باز رکھنے کی کوشش کی گئی۔ان حالات کے پیش نظر جماعت کی تبلیغی کوششیں زیادہ تیزی سے جاری نہ رہ سکیں۔ملکی حالات کی وجہ سے عربوں کا خلیفہ وقت اور مرکز احمدیت سے رابطہ بہت مشکل ہو گیا۔تاہم اس عرصہ میں عربوں میں تبلیغ کی جو بھی کوششیں ہوئیں ان کا مختصر بیان ذیل میں کیا جاتا ہے۔تمنا بر آئی مکرم عبد الله اسعد عودہ صاحب کبابیر سے لکھتے ہیں کہ ان کے بھائی ابراہیم عودہ صاحب 1967ء میں جرمنی میں بغرض تعلیم مقیم تھے اور عبد اللہ اسعد عودہ صاحب ان کو ملنے اور سیر و سیاحت کی غرض سے جرمنی گئے۔اسی سال حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کا جرمنی میں ورود مسعود ہوا۔حضور کی آمد اور آپ سے ملاقات کی ایمان افروز داستان بیان کرتے ہوئے مکرم عبد اللہ اسعد عودہ صاحب لکھتے ہیں: میں اپنے بھائی ابراہیم عودہ صاحب کے ساتھ ائیر پورٹ پر حضور کے استقبال کے لئے گیا جہاں حضور انور بعض مبلغین کرام کے ساتھ تشریف لائے۔استقبالیہ میں جب حضور انورا اپنی بارعب، پر وجاہت شخصیت اور سفید عمامہ کے ساتھ رونق افروز ہوئے تو جماعت کے افراد کے استقبال سے پہلے بعض جرمن عورتیں آپ کے لئے پھول لے آئیں۔شاید انہوں نے آپ کو مسیح منتظر یا کسی مشرقی ملک کا بادشاہ خیال کیا ہو۔جرمنی میں مرکز جماعت میں افراد جماعت حضور کی آمد کے منتظر تھے۔آپ نے سب کے ساتھ مصافحہ فرمایا اور کئی احباب سے مختلف امور کی بابت