مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 84
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 70 ہلکی پھلکی بات بھی کی۔آخر میں ہماری باری آئی۔ہمارے جذبات کی کیفیت عجیب تھی کیونکہ کسی بھی خلیفہ اُسیح سے یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔یہ عجیب لمحات تھے جن میں ہماری ایک دیرینہ تمنا پوری ہو رہی تھی۔آپ نے کافی دیر تک ہمارے پاس توقف فرمایا اور ہم سے اسرائیل کے ساتھ بلاد عر بیہ کی اس جنگ کی بابت دریافت فرماتے رہے جو اس وقت ختم ہو چکی تھی اور اس کی وجہ سے فلسطین، مصر، اردن اور شام میں بہت زیادہ تباہی ہوئی تھی۔پھر آپ نے ہم سے کہا بیر میں جماعت کے مدرسہ احمدیہ کی بابت پوچھا اور فرمایا کہ آپ کبھی بھی اس کو اسرائیلی حکومت کے حوالے نہ کرنا۔پھر یورپ کے دیگر ممالک کے دورہ پر جانے سے پہلے بھی ہمیں یہی پیغام ارسال فرمایا کہ مدرسہ کو حکومت کے حوالے نہیں کرنا “۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث کی دعائے مستجاب مکرم عبد اللہ اسعد عودہ صاحب لکھتے ہیں کہ: میری تین بیٹیاں تھیں میں نے حضور کی خدمت میں اولاد نرینہ کے لئے دعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا: "Don't worry you will get one" یعنی گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور اولاد نرینہ سے نوازے گا۔چنانچہ اس کے ایک سال بعد ہی اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹا عطا فرمایا اور پھر اپنے فضل سے اس کے بعد دو اور بیٹے عطا فرمائے۔جماعت جسم ہے اور خلیفہ روح حضور جرمنی کے دورہ کے بعد بذریعہ ریل ڈنمارک میں مسجد کے افتتاح کے لئے تشریف لے گئے۔شدید ژالہ باری کی وجہ سے ریل گاڑی کئی گھنٹے کی تاخیر سے روانہ ہوئی اور حضور کو ریلوے سٹیشن پر ہی انتظار کرنا پڑا۔انتظار کے دوران کئی یورپین لوگ حضور کے قریب ہونے کی کوشش کرتے لیکن بعض افراد جماعت ان کو دور کر دیتے تھے جس پر حضور نے فرمایا: جب وہ ہمارے قریب آنا چاہتے ہیں تو آپ ان کو دُور کیوں کرتے ہیں، بلکہ ہمیں تو انہیں