مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 68 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 68

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کے نزول آسمانی کو اگر مان لیا جاوے تو اس وقت تمام دنیا تو موجود ہو گی نہیں اگر ہو گی بھی تو بالفرض متعدد اشخاص ہی ہو دیں گے تو ان کی تصدیق کون کرے گا۔نہ ماننے والے جب نہ مانیں گے پھر ایک فضول بات ٹھہری۔اور ان کا دوبارہ آنا لغو سا ہو گیا۔اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کیا یہ امر ممکن نہیں تو اسکا جواب ہم یہ دیں گے کہ امکان مستلزم وقوع کب ہے۔جو ہم خواہ خواہ تسلیم کر لیں۔اور جب امکان ہی پر آئے تو کیا یہ مکن نہیں ہے کہ ہم میں سے کسی کو خدا یہ شرف بخشے اور مسیح ابن مریم بنائے۔جب یہ بھی ممکن ہے اور وہ بھی تو جو عقل سے زیادہ اقرب ہوگا ہم تو اس کو ہی پسند کریں گے۔“ ایمان اچھایا تکذیب 64 اب ہم حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں۔ہم سب سے اول یہ بات دریافت کرتے ہیں حضرات مکفرین سے کہ حضرت اقدس نے ارکان دین میں سے کسی رکن کا نعوذ باللہ انکار کیا ہے؟ ہرگز نہیں۔حاشا عن ذلک۔اچھا اصول دین میں سے کسی اصل کے ساتھ مخالفت کی ہے ؟ ہر گز نہیں۔بلکہ پانچوں ارکان اسلام کو وہ مانتے ہیں۔۔۔اگر ان کی اور حضرات مکفرین کی مخالفت ہے تو صرف ایک مسئلہ حیات وفات مسیح میں ہے تو کیا کوئی شخص ہم کو یہ بتا سکتا ہے کہ حیات مسیح علیہ السلام کا اقرار کرنا ارکان اسلام میں سے ہے یا اصول دین میں سے ہے؟ ہرگز نہیں۔پھر اس کے انکار سے انسان کافر کیونکر ہوسکتا ہے۔اگر کوئی اور وجہ اس کے علاوہ ہو تو کوئی صاحب ہم کو سمجھا دیں کیونکہ اصول و فروع میں حضرت مرزا صاحب کا وہی طرز عمل ہے جو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصحابہ کرام و تابعین رضی اللہ عنہم اجمعین کا تھا۔وہ مدعی نبوت تشریعی نہیں۔سرور کائنات کے ختم نبوت سے انکاری نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے اتباع کو اپنا فخر سمجھتے ہیں اور انہی کی غلامی کا دم بھرتے ہیں پھر یہ کفر کہاں سے آ گیا۔کوئی صاحب یہ معمہ حل کر دیوے تو بڑی ہی مہربانی ہو۔افسوس دنیا میں انصاف نہیں ہے۔مگر میں اوروں کو تو بعد میں کہوں گا پہلے میں خود ایسا تھا۔مگراللہ الحمد مجھ میں اللہ تعالیٰ نے تحقیق کا مادہ ایسا رکھا ہے کہ جب تک خوب چھان بین نہیں کر لیتا یکا یک کوئی حکم قائم نہیں کرتا۔اگر چہ میں مخالف ضرور رہتا مگر نہ ایسا کہ خواہ مخواہ کوئی حکم لگاتا۔چنانچہ اس کا انجام یہ ہوا کہ آج سے چوبیں