مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 67 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 67

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول محسوس ہوتا ہے کہ ایک چشمہ فیض ہے جو میرے دل پر گر رہا ہے۔چنانچہ ” مشتے نمونہ از خروارے پیش کش ناظرین ہے۔63 63 میں دو پہر کو ایک روز حسب عادت سو کر جو اٹھا تو یہ مضمون میرے دل میں جوش مار رہا تھا اور یہ ساری عمر میں پہلا اتفاق تھا۔“ حضرت مسیح کی آمد ثانی کی غرض یکا یک میرے دل میں یہ خیال گزرا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی کیا ضرورت ہے تو میرے خیال میں مندرجہ ذیل ضرورتیں معلوم ہوئیں۔ایک تو یہ کہ آپ اپنے پیرؤوں کو کافروں پر غلبہ بخشیں۔دوم یہ کہ اپنی شریعت کو دوبارہ قائم کریں۔سوم یہ کہ تثلیث کا ابطال کریں۔اب اس کی تفصیل سنئے۔پہلی شق تو اس وجہ سے باطل ہے کہ تحصیل حاصل ہے۔ایک تو اللہ تعالی نے ویسے ہی وعدہ فرمایا ہے۔دوسری صورت کا بطلان مین ہے کہ اب کوئی دوسری شریعت قائم کرنے والا نہیں آوے گا۔رہا یہ کہ وہ شریعت محمدیہ ہی کو آ کر مستحکم کریں گے۔تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جب کام کو اللہ تعالیٰ ایک مجدد سے بخوبی نکال سکتا ہے۔چنانچہ نکالتا چلا آیا ہے۔تیرہ سو برس سے اس کام کے لئے ایک جلیل القدر پیغمبر کو دو ہزار سال تک آسمان پر بیٹھا رکھے اور اب اس کو نازل کرے۔۔۔۔کیونکہ نہ تو وہ دشمن جن کے ہاتھوں سے ان کو تکلیفیں پہنچیں موجود ہیں کہ ان سے اگر بدلہ لیں گے نہ کوئی دوسری وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہے۔رہی تیسری صورت تو اس میں ان کو کوئی خصوصیت نہیں جس عالم یا مجدد کو خدا کھڑا کر دیوے وہ اسکی بیخ کنی باحسن الوجوہ کرسکتا ہے۔چنانچہ مشاہد ہے تو یہ بھی کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے جو ان کے دو ہزار سال بعد آسمان سے تشریف آوری مقتضی ہو۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ ان کا ابطال تثلیث کرنا ایک خاص اثر رکھے گا۔اس وجہ سے کہ ان کو ہی خدا کا بیٹا کہا جاتا ہے۔تو جب وہ خود ان کے عقیدہ کا بطلان ظاہر کریں گے تو بہت کچھ اثر مترتب ہو گا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے نزدیک اس بات پر دلیل کیا ہوگی۔کہ یہ وہ ہی عیسی بن مریم سلام اللہ علیہ ہیں جن کو ہم خدا کا بیٹا سمجھتے تھے۔کیوں کہ ان