مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 60 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 60

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 56 صدمہ یہ ہوا کہ آپ کے قبیلہ کے لوگ حضور اقدس علیہ السلام کی زندگی میں قبول احمدیت کی سے محروم رہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت مفتی محمد صادق رضی اللہ عنہ کے ایک مکتوب گرامی محررہ 13 اگست 1913 سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ ابیح الاول رضی اللہ عنہ کی ذات والا صفات سے بھی آپ کا خادمانہ ومخلصانہ وفا کا گہرا تعلق استوار رہا۔حضرت خلیفہ اسبح الأول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آپ کے عریضہ کے جواب میں حضرت مفتی صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”آپ کا خط ملا۔حضرت خلیفہ اسیح آپ کے واسطے بہت دعا کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ہم آپ کے واسطے رمضان میں بہت دعا کریں گے۔آپ بڑے مخلص ہیں۔“ 66 احمدی حجاج کرام کی خدمت کی سعادت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ، حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب اور حضرت عبد الحمی عرب رضی اللہ عنہم حج کی نیت سے یکم اکتوبر 1912 کو جدہ پہنچے تو چھ روز تک حضرت ابو بکر یوسف رضی اللہ عنہ کے غریب خانہ کو قیام کی سعادت بخشی۔آپ نے ایک حج حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیت سے اور ایک حج حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی نیت سے بھی کیا تھا۔جدہ میں جب تک آپ کا قیام رہا اکثر احمدی حجاج آپ ہی کے غریب خانہ میں قیام فرماتے رہے۔1924 میں مکرمی محمود مجیب اصغر صاحب کی روایت کے مطابق ان کے دادا جان مکرم میاں عبد الرحمن بھیروی صاحب نے بھی وہاں قیام فرمایا۔1927 میں حضرت عبد الرحیم صاحب نیر قادیان سے اور حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب لندن سے، نیز ڈاکٹر عبد العزیز سندھی اور انکی اہلیہ حفیظہ صاحبہ عدن سے، ڈاکٹر یوسف زئی صاحب اور ان کی اہلیہ ( جو محترم مرزا مہتاب بیگ صاحب ٹیلر ماسٹر کی عزیزہ زئی اور اہلیہ( جو ٹیلر تھیں) اور انکے بیٹے بیٹی خان صاحب کے علاوہ سات اور احباب کے قافلہ نے حج کی سعادت پائی اور جدہ میں آپ ہی کے ہاں قیام کیا۔ڈاکٹر عبدالعزیز صاحب نے آپ کو اپنی کتاب میں امیر الحجاج کے لقب سے خطا