مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 57
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 53 چاول اور کالی مرچ کا بہت بڑا کاروبار تھا مگر زیادہ نام آپ نے ہیرے جواہرات کی تجارت میں کمایا۔تجارت کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی تحصیل کی لگن بھی تھی ، اور عبادات ، مناجات ، اور مجاہدات کی طرف بھی رجحان تھا۔علماء وقت کی صحبت اور مجالس میں بیٹھک رہتی تھی اور آپ کو اپنے وسیع حلقہ احباب میں علوم دینیہ میں سند تسلیم کیا جاتا تھا۔فقہ حنفیہ میں گہرا تفقہ تھا اور عنفوانِ شباب میں جب بیت اللہ اور رضہء رسول ﷺ کے قرب میں قیام کی سعادت نصیب میں آئی تو تصوف میں شغف بڑھا۔مرد کامل کی تلاش صل الله ایک تاجر ہونے کی حیثیت سے عامتہ المسلمین کی اخلاقی علمی ، اور روحانی درماندگی سے پالا پڑا اور خصوصا مسلمان تجار کی دنیا طلبی اور دینی غفلت، حلال و حرام کی تمیز سے لا پرواہی غیر اسلامی مشرکانہ رسومات اور بدعتوں میں دلچسپی دیکھ کر دنیا سے دل اچاٹ ہو گیا اور پھر ایک ایسے مرد کامل فانی فی اللہ کی تلاش میں سرگرداں رہنے لگے جو امت مسلمہ کی دگرگوں حالت کو بہتری کی طرف لا سکے۔یہ بھی خیال آتا کہ امام مہدی اور مسیح علیہما السلام کے نزول کا وقت بھی قریب ہے۔عالم اسلام کی زبوں حالی کے تصور سے آپ کی حالت بسا اوقات خیال گزرتا کہ آپ کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔پھر دعاؤں اور مناجات کی طرف توجہ ہوتی۔ایک رات کچھ ایسے ہی لمحات میں گزر ہوئی اور جبکہ طلوع فجر کا عمل تھا کہ ایک نظارہ دیکھا جس میں آپ کو روضہ اقدس حضرت رسول کریم ﷺ پر پانچ منور چراغ دکھائے گئے۔پھر وہی پانچ منور چراغ بارہ چراغوں کی صورت میں نور افشاں کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔پھر ایک اور چراغ ان سب کے سوا دکھائی دیا جو شعلہ پکڑنے سے پہلے پھڑ پھڑا رہا تھا اور پھر وہ چراغ ایک شان سے بقعہ نور ہو گیا۔یہ نظارہ دیکھنے کے بعد یہی خیال آتا رہا کہ بارہ اماموں کا نورانی زمانہ تو گزر چکا ہے اس لئے آخری امام الزمان کے نور کے ظہور کا وقت قریب ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا ظہور ہو چکا ہو۔اسکی تلاش کرنی چاہئے۔ایسے میں بالآ خر خدا کے فضل نے آپ کی دستگیری فرمائی اور بحمد اللہ بالیقین آپ پر یہ منکشف ہو گیا کہ اس وقت کے ہادی اور امام جس کے ہم صلى الله