مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 52
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 50 شادی چل نہ سکی اور علیحدگی ہوگئی۔ایسا لگتا ہے کہ عبدالحیمی عرب صاحب بھی بیعت کے بعد قادیان کے ہی ہو کر رہ گئے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے عہد مبارک میں آپ کا ذکر متعدد امور کے ضمن میں بار بار آتا ہے۔عبدالحی عرب نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ کے ساتھ 1912 میں عہد خلافت اولیٰ میں سفر بلا دعر بیہ اور حج بھی کیا۔آپ کو جماعت احمدیہ کے پہلے عربی رسالہ ”مصالح العرب‘ کے مدیر ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔سیرت المہدی میں ایک اور روایت میں آپ کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جودوسخا کا ذکر اس طرح ہوا ہے: ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالحیمی صاحب عرب نے مجھ سے ایک روز حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ہی ذکر کیا کہ حضرت صاحب کی سخاوت کا کیا کہنا ہے۔مجھے کبھی آپ کے زمانہ میں کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔جو ضرورت ہوتی۔بلا تکلف مانگ لیتا اور حضور میری ضرورت سے زیادہ دے دیتے اور خود بخود بھی دیتے رہتے۔جب حضور کا وصال ہو گیا تو حضرت خلیفہ اول حالانکہ وہ اتنے سخی مشہور ہیں میری حاجت براری نہ کر سکے۔آخر تنگ ہو کر میں نے ان کو لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ تو بن گئے مگر میری حاجات پوری کرنے میں تو ان کی خلافت نہ فرمائی۔حضرت صاحب تو میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا کرتے تھے۔اس پر حضرت خلیفہ اول نے میری امداد کی۔مگر خدا کی قسم ! کہاں حضرت صاحب اور کہاں یہ۔اُن کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔“ ( ماخذ تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 410۔سیرت المہدی روایت نمبر 562 و 1200 و 1273 ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں ذکر آپ کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب نزول المسیح میں پیشگوئی نمبر 90 کے گواہان میں کیا ہے جہاں آپ کا نام یوں تحریر ہے : سید عبدالھی عرب حویری“۔نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد 18 ص 594) اسی طرح آپ کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقۃ الوحی میں سخت زلزلہ