مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 44 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 44

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول هَدَاكَ الله هَلْ قَتْلِي يُبَاحُ وَهَلْ مِثْلِى يُدَمرُ أَوْ يُجَاحُ 42 یعنی : (اے شیخ بغدادی) اللہ تمہیں ہدایت دے، کیا میرا قتل تیرے نزدیک امر مباح ہے؟ کیا میرے جیسا انسان بھی تمہاری نظر میں تباہی اور بیخ کنی کا مستحق ہے؟ شیخ بغدادی نے اپنے اشتہار میں کہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نعوذ باللہ جھوٹے ہیں اور آپ کا علاج صرف تلوار ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے حضور اپنے قصیدہ میں فرماتے ہیں: اے میری مخالفت میں مجھے تلوار سے قتل کرنے کی دھمکیاں دینے والے، تجھے کیا معلوم کہ مجھ پر تو اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی تلوار کب کی چل چکی ہے۔نتیجه حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس رد جمیل کے بعد شیخ بغدادی صاحب کی طرف سے کسی قسم کے جواب کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا، نہ ہی ان کی طرف سے مجوزہ کتاب کے نشر ہونے کا پتہ چلتا ہے۔اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ایسی کتاب کا جواب لکھنے کی جرات بھی کر سکتا یا اس کو اس اقدام کی توفیق مل سکتی جو کتاب خاص طور پر خدائی تائید اور اشارات سے لکھی گئی ہو۔حسنِ اتفاق یا تقدیر الہی شیخ بغدادی صاحب کے خط کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کتاب کتاب لکھنا عظیم حکمتوں سے خالی نہ تھا۔خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ آئندہ زمانوں میں بہت بڑے بڑے نشان دکھانا چاہتا تھا۔عجیب تصرف الہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب روحانی خزائن میں تو طبع ہوگئیں لیکن عربی کا تب میسر نہ ہونے کی وجہ سے ان کی کتابت ایسے کا تب حضرات نے کی جن کو عربی زبان کا علم بہت کم تھا یا بالکل نہیں تھا اس کی وجہ سے جہاں کتابت عربوں کے طریق پر نہ تھی وہاں کہیں کہیں بعض کتابت وغیرہ کی معمولی غلطیاں بھی رہ گئی تھیں۔اس پر مستزاد یہ کہ یه کتب دیگر اردو کتب کے ساتھ مختلف جلدوں میں موجود تھیں جن کا علیحدہ طور پر حصول عربوں