مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 45 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 45

43 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کے لئے بہت مشکل امر تھا۔چنانچہ ان عربی کتب کو علیحدہ طور پر ایڈیشن اول کے ساتھ ملا کر نئے اور خوبصورت طبع میں پرنٹ کرنے کا کام جماعت کے مرکزی عربک ڈیسک میں شروع ہوا ، اور کتاب تحفہ بغداد 2007 ء میں ہوئی اور یہ وہ وقت تھا جب عراق اور بغداد کی حالت ایسے زخم زخم جسم کی طرح تھی جو مرہم کی بھیک مانگنے کے لئے خون رو رہا ہو۔جب MTA اور ہماری عربی ویب سائٹ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات اور آپ کے کلام سے اقتباسات ان لوگوں تک پہنچے تو ان کی کایا پلٹ گئی اور عرب اقوام سے بکثرت احمدیت میں داخل ہونے کا سلسلہ جاری وساری ہے۔تحفہ بغداد کا اثر شیخ بغدادی پر تو معلوم نہیں ہوا یا نہیں لیکن خدا کی تقدیر دیکھیں کہ اس کتاب میں بتائے گئے استخارہ کے طریق کو اہل عراق اور دیگر عرب دنیا کے کئی نیک سیرت احباب نے آزمایا اور خدا تعالیٰ نے ان کی راہنمائی فرمائی اور وہ احمدیت کی آغوش میں آگئے اور یہ سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔احباب کے افادہ کے لئے ان میں سے ایک مثال ذیل میں پیش کی جاتی ہے: مکرم صفاء غانم السامرائی۔از بعقو به کردستان عراق کہتے ہیں: جماعت کے ساتھ تعارف ہونے کے بعد میرے لئے نشان ظاہر ہوا۔اس کی تفصیل یہ ہے: پچھلے سال مئی (2007ء) میں جبکہ رات کے وقت میں مختلف نئے چینلز کی تلاش کر رہا تھا کہ میں نے کسی کو یہ عدد کہتے ہوئے سنا: 10888۔میں بہت گھبرا گیا۔لیکن میں نے یہ فریکونسی ریسیور میں feed کی اور search کی تو اچانک میرے سامنے 14 نئے چینلز کی لسٹ آ گئی جن میں سے ایک MTA تھا۔اور اس چینل پر سب سے پہلے جس شخصیت کو دیکھا وہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تھے جو لقاء مع العرب پروگرام میں موجود تھے۔اس دن سے میں MTA کے مختلف پروگرامز دیکھ رہا ہوں۔میں تو ایک لمبے عرصہ سے امام مہدی کو تلاش کر رہا تھا اور اپنے شیعہ دوستوں کے ساتھ اس سلسلہ میں بحث بھی کرتا تھا۔الحمد للہکہ اللہ تعالیٰ نے امام مہدی کو ٹی وی کے ذریعہ) میرے گھر میں بھیج دیا۔ایک دن MTA پر ایک پروگرام کلام الامام میں میں نے سید نا احمد علیہ السلام کا یہ کلام سنا جس میں آپ نے فرمایا کہ میرے بارہ میں خدا سے دعا کرو اور استخارہ کرو، اور دورکعت نماز