مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 36
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ایک روایت اور وضاحت حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں: وو (ذکر حبیب صفحہ 42) 36 غالباً 1894ء کے قریب دو عرب شامی جو علوم عربیہ کے ماہر اور فاضل تھے قادیان آئے، ایک عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہے۔ہر دو کا نام محمد سعید تھا اور طرابلس علاقہ شام کے رہنے والے تھے۔ان میں سے ایک صاحب شاعر بھی تھے۔مالیر کوٹلہ میں ایک ہندوستانی لڑکی سے حضرت نواب محمد علی رضی اللہ عنہ نے شادی کروا دی۔دوسرے محمد سعید نے ایک رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں تصنیف کیا تھا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر جو بصورت رسالہ چھپی تھی لے کر اپنے وطن ملک شام سلسلہ کی تبلیغ کے واسطے چلے گئے۔اسی مضمون کی سیرت المہدی کی ایک روایت یوں ہے: حافظ نور محمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک نوجوان عرب جو حافظ قرآن اور عالم تھا، آکر رہا اور آپ کی تائید میں اس نے ایک عربی رسالہ بھی تصنیف کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی شادی کا فکر کیا۔میرے گھر کے ایک حصہ میں میرے استاد حافظ محمد جمیل صاحب مرحوم رہا کرتے تھے۔ان کی بیوی کی ایک ہمشیرہ نو جوان تھی۔حضرت صاحب نے ان کو رشتہ کے لئے فرمایا۔انہوں نے جواباً عرض کیا کہ لڑکی کے والد سے دریافت کرنا ضروری ہے۔لیکن میں حضور کی تائید کروں گا۔اتنے میں خاکسار حسب عادت قادیان گیا۔جب میں نے مسجد مبارک میں قدم رکھا۔تو اس وقت حضرت صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور وہ عرب صاحب موجود تھے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔کہ هذَا رَجُلٌ حَافِظٌ نُور مُحَمَّد “ اور حضور نے فرمایا۔کہ میاں نور محمد آپ عرب صاحب کو ہمراہ لے جائیں اور وہ لڑکی دکھلا دیں۔بعد نماز ظہر میں عرب صاحب کو ساتھ لے کر فیض اللہ چک کو روانہ ہوا۔آپ کے ارشاد کے ماتحت کارروائی کی گئی۔مگر انہوں نے پسند نہ کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی شادی مالیر کوٹلہ میں کرادی۔“ حضرت مفتی صاحب کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ دو محمد سعید نامی عرب احمدی ہوئے (سیرت المہدی روایت نمبر 508)