مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 33 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 33

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 33 لئے ہم دن رات دعائیں کرتے تھے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ یہ شخص اپنے قول اور وعدہ میں مرد صادق ہے۔بیہودہ کلام سے پر ہیز کرتا ہے۔اور زبان کو ہر ایک چراگاہ میں مطلق العنان نہیں چھوڑتا اور خدا تعالیٰ نے ہماری محبت اس کے دل میں ڈال دی۔سو ہم سے وہ محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے۔جو کچھ اس نے کہا اور وعدہ کیا میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ اس کا اہل ہے اور جیسا کہ کہا ویسا ہی کرے گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ خدا اس کو ہمارے بیج کی نشو ونما اور تروتازگی کا باعث کرے اور ہمارا دودھ اس کے ذریعہ سے خوشگوار ہو جاوے۔اور خدا سب مستبوں سے نیک تر ہے۔اور میں نے دیکھا کہ یہ شخص ریاضت کش اور صابر ہے شکوہ اور جزع فزع اس کی سیرت نہیں اور میں نے بارہا دیکھا کہ یہ شخص ادنی چیزوں کے کھانے پر کفایت کرتا ہے اور ایسا ہی ادنی ملبوسات پر اگر لحاف نہ ہو تو اس کو مانگتا نہیں بلکہ دھوپ میں بیٹھنے اور آگ سینکنے سے گزارہ کر لیتا ہے اور تکلیف اٹھا کر اپنے تئیں سوال سے باز رکھتا ہے۔میں نے اس میں فروتنی اور حلم اور انا بت اور نرمی دل کو پایا اور خدا بہتر جانتا ہے اور وہ اس کا حسیب ہے۔میں نے جو دیکھا سو کہا۔پس خدا کی رحمت سے کچھ تعجب مت کرو کہ وہ اس شخص کی سعی سے ان حرجوں کو اٹھاوے جو ہمیں پہنچ گئے۔اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے جس بات کو وہ چاہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور جو کچھ وہ دیوے کوئی اس کو رد نہیں کر سکتا۔وہ اپنے دین کا حافظ اور تمام ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کے دین کی مدد کریں۔۔اور بھائیو یہ بھی تمہیں معلوم رہے کہ دیار عرب میں کتابوں کے شائع کرنے کا معاملہ اور ہماری کتابوں کے عمدہ مطالب عرب کے لوگوں تک پہنچانا کچھ تھوڑی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان امر ہے اور اس کو وہی پورا کر سکتا ہے جو اس کا اہل ہو۔کیونکہ یہ بار یک مسائل جن کے لئے ہم کا فر ٹھہرائے گئے اور جھٹلائے گئے کچھ شک نہیں کہ وہ عرب کے علماء پر بھی ایسے سخت گزریں گے جیسا کہ اس ملک کے مولویوں پر سخت گزر رہے ہیں۔بالخصوص عرب کے اہل بادیہ کو تو بہت ہی ناگوار ہوں گے کیونکہ وہ بار یک مسائل سے بے خبر ہیں اور وہ جیسا کہ حق سوچنے کا ہے سوچتے نہیں اور ان کی نظریں سطحی اور دل جلد باز ہیں مگر ان میں قلیل المقدار ایسے بھی ہیں جن کی فطرتیں روشن ہیں اور ایسے لوگ کم پائے جاتے ہیں۔سوان مشکلات کی وجہ سے جو تم سن چکے مصلحت دینی نے تقاضا کیا جو اس کام کے لئے ہم