مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 29
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ایسی عبارت عرب نہیں لکھ سکتا ہندوستانی کو تو کیا طاقت ہے۔قصیدہ نعتیہ دکھایا۔پڑھ کر رو دیا۔اور کہا خدا کی قسم میں نے اس زمانہ کے عربوں کے اشعار کو کبھی پسند نہیں کیا اور ہندیوں کا تو کیا ذکر ہے ،مگر ان اشعار کو حفظ کروں گا۔اور کہا واللہ جو شخص اس سے بہتر عبارت کا دعوی کرے چاہے عرب ہی کیوں نہ ہو۔وہ ملعون مسیلمہ کذاب ہے۔تَمَّ كَلَامُه۔میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ کلام ربانی اور تائید سبحانی کا اعجاز ہے آدمی کا کام نہیں۔میں نے حضرت کو اپنی جان اور اپنی اہل اور اولاد میں ما لک کر دیا۔(سچائی کا اظہار، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 75-76 ) اسی طرح آپ نے اپنی کتاب ”سچائی کا اظہار میں حضرت شامی صاحب کا ایک خط اور اس پر حضور کا جواب بھی عربی زبان میں درج فرمایا ہے جو اپنی ذات میں عربی ادب کا ایک شہ پارہ معلوم ہوتا ہے۔اس خط کا خلاصہ قارئین کی نظر کیا جاتا ہے۔سب سے پہلے انہوں نے حضور کو مخاطب کرنے کا سحر انگیز طریق اختیار کیا ہے عرض 29 کرتے ہیں: اے وہ عظیم الشان وجود کہ جس کے اوصاف حمیدہ کے بارہ میں مجھے نسیم شوق نے آگاہی دی ہے، اور اے وہ ہستی کہ جس کے فیوض کے عطر سے نرگس کے پھولوں نے مہک مستعار لی ہے۔29 پھر دعا گو ہوتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : اللہ کرے کہ حضور کے نجات کے سفینے علوم وفنون کے سمندروں میں محو سفر رہیں۔اور لوگوں کے سر آپ کے بلند و بالا مرتبہ کے سامنے جھکے رہیں، اور زبانیں آپ کے محاسن کی گواہی دیتی رہیں۔پھر لکھتے ہیں کہ: میرا آپ سے ملنے کا شوق نا قابل بیان ہے۔مجھے قضا وقدر نے ملک ملک پھراتے ہوئے اس علاقے میں لا پھینکا اور ایک شفیق بھائی مولوی محمد یعقوب سے ملایا۔اس کے ساتھ باتوں میں آپ کا ذکر چل نکلا اور جب آپ کے اخلاق و محاسن سے آگاہی ہوئی تو آپ سے ملاقات کی جستجو پیدا ہوگئی۔لیکن راہ کی تکلیف، گرمی کی تپش ، تہی دستی ، اور قلت زاد جیسے امور میری راہ میں حائل ہیں۔اس کے آگے انہوں نے دوشعروں میں اپنی حالت کا نقشہ کھینچا ہے جن کا ترجمہ ہے: