مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 559
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 533 شاہ ابن سعود کی وفات پر حضرت مصلح موعودہؓ کی طرف سے تعزیت فند شاہ عبدالعزیز ابن سعود جو نجد و حجاز مقدس کے بادشاہ اور عالم اسلام کے نہایت جری، ز بر دست مدبر اور مرنجاں اور جدید جنگی فنون کے ماہر اور بین الاقوامی سیاست کے خم و پیچ سے واقف تھے 10 نومبر 1953ء کو انتقال کر گئے۔تمام عرب ملکوں نے اپنی سرکاری تقریبات ملتوی کر دیں اور قاہرہ ، دمشق اور عمان کے ریڈیو سٹیشنوں سے عام پروگرام کی بجائے قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دی گئی۔تمام عرب ملکوں نے اڑتالیس گھنٹوں تک سوگ منایا۔نیو یارک میں اقوام متحدہ کا پرچم شاہ ابن سعود کے ماتم میں سرنگوں رہا۔( روزنامہ نوائے وقت لاہور 21 نومبر 1953 ء صفحہ 1) صاحب الجلالة شاہ مملکت سعودیہ عبد العزیز ابن سعود جیسے بیدار مغز، نیک دل اور شریف بادشاہ کے عہد حکومت میں اتحاد بین المسلمین کی تحریک کو بہت تقویت حاصل ہوئی۔جلالۃ الملک ابن سعود کا یہ کارنامہ ہمیشہ یاد رہے گا کہ انہوں نے حج بیت اللہ کے دروازے ہر کلمہ گو مسلمان کے لئے ہمیشہ کھلے رکھے۔ایک بارالفضل کے سیاسی نامہ نگار نے جلالۃ الملک سے مکہ معظمہ میں ملاقات کی تو انہوں نے جماعت احمدیہ کی نسبت فرمایا کہ تبلیغ اسلام میں مدد دینا ہمارا کام ہے اور احمدیوں کی نسبت جب سورت کے ایک اہلحدیث نے شکایت کی کہ یہ ایک اور نبی کے ماننے والے ہیں تو سلطان نے کہا یہ تو شرک فی النبوة کرتے ہوں گے مگر یہاں تو شرک فی التوحید کرنے والے بھی آتے ہیں۔پھر احمدیوں کو