مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 560
534 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول مکہ سے نکالنے کی تجویز پر پوچھا کیا یہ کعبتہ اللہ کو بیت اللہ سمجھ کر حج کے لئے آتے ہیں ؟ جواب میں ”ہاں“ سن کر فرمایا ” تو کیا یہ عبد العزیز کے باپ کا گھر ہے جس سے میں نکال دوں؟ یہ خدا کا گھر۔66 (روز نامہ الفضل قادیان 24 جولائی 1935 ء صفحہ 5 کالم 4،3 جمعیت العلمائے ہند سے خصوصی رابطہ رکھنے والے ایک صاحب علم اور صاحب قلم نے فت روزہ ”صدیق جدید لکھنو مورخہ 6 اگست 1965ء صفحہ 8 میں شاہ عبد العزیز ابن سعود کے زمانے کا یہ واقعہ بایں الفاظ لکھا کہ : حجرہ نشین مولویوں نے مرحوم سے کہا کہ چونکہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں اس لئے انہیں حجاز مقدس سے نکال دیا جائے۔مرحوم نے مولوی صاحبان سے پوچھا کہ قادیانی حج کو اسلام کا رُکن اور اس کو فرض سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ فرض سمجھتے ہیں۔اس پر مرحوم نے فرمایا کہ جو شخص حج کی فرضیت کا قائل ہے اور اسے اسلام کا اہم رکن سمجھتا ہے اسے حج سے روکنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔یہ واقعہ ہم نے مرحوم کی زندگی میں خود بعض مولویوں کی زبانی سنا تھا۔ممکن ہے کہ بعض اخبارات میں بھی شائع ہوا ہو۔“ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی اصلح موعودؓ کو دنیائے اسلام کی اس عظیم شخصیت کے المناک انتقال پر بہت صدمہ ہوا اور آپ نے 11 نومبر 1953ء کو اپنی اور جماعت احمدیہ کی طرف سے سعودی عرب کے نئے سلطان ہنر میجسٹی شاہ سعود بن عبدالعزیز کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار فرمایا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی رہنمائی کرے۔اس سلسلہ میں حضور نے شاہ عبد العزیز کے بیٹے کے نام ربوہ سے جو ٹیلی گرام ارسال فرمایا اس کا ترجمہ درج ذیل ہے:۔مر میجسٹی شاہ سعودی عرب 66 میں اپنی اور جماعت احمدیہ کی طرف سے آپ کے نامور والد کی وفات پر آپ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے محبوب و مقدس ملک عرب کو امن اور ترقی سے نوازے اور تمام امور میں آپ کی رہنمائی فرمائے اور آپ کے کندھوں پر جو بوجھ ڈالا گیا ہے اسے برداشت کرنے