مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 555
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کرو۔فرمایا وَاصْبِرُوا اور مجھ پر امید رکھو میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔اس کے بعد حضور نے اسلامی اتحاد کے دو اصول بیان فرمائے۔پہلا اسلامی اصول اتحاد 529 اگر ہم اکٹھے ہو کر بیٹھ جائیں گے تو آہستہ آہستہ اتحاد کی کئی صورتیں نکل آئیں گی۔فلاں مردہ باد، فلاں زندہ باد کے نعروں سے کچھ نہیں بنتا۔اگر کوئی نقطہ مرکزی ایسا ہے جس پر اتحاد ہوسکتا ہے تو اس کو لے لو کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ اختلافات قائم رکھو پھر یہ بیوقوفی کی بات ہے کہ ہم ان اختلافات کی وجہ سے اتحاد کو چھوڑ دیں۔دوسرا اسلامی اصول اتحاد دوسرا اصول اتحاد کا یہ ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز پر قربان کر دیا جائے۔اگر تم دیکھتے ہو کہ ہر بات میں اتحاد نہیں ہو سکتا تو تم چھوٹی باتوں کو چھوڑ دو اور بڑی باتوں کو لے لو۔عالم اسلام کو دعوت اتحاد پس ان دونوں باتوں پر عمل کیا جائے تو اتحاد ہو سکتا ہے اس وقت پاکستان، لبنان ،عراق، اردن ، شام، مصر، لیبیا، ایران ، افغانستان ، انڈونیشیا اور سعودی عرب یہ گیارہ مسلم ممالک ہیں جو آزاد ہیں اور ان سب میں اختلاف پائے جاتے ہیں۔اگر انہوں نے آپس میں اتحاد کرنا ہے تو پھر اختلافات کو برقرار رکھتے ہوئے ان کا فرض ہے کہ وہ سوچیں اور غور کریں کہ کیا کوئی ایسا پوائنٹ بھی ہے جس پر وہ متحد ہو سکتے ہیں ؟ اور اگر کوئی ایسا پوائنٹ مل جائے تو وہ اس پر ا کٹھے ہو جائیں اور کہیں کہ ہم یہ بات نہیں ہونے دیں گے۔مثلاً یہ سب ممالک اس بات پر اتحاد کر لیں کہ ہم کسی مسلم ملک کو غلام نہیں رہنے دیں گے اور بجائے اس کے کہ اس بات کا انتظار کریں کہ پہلے ہمارے آپس کے اختلافات دور ہو جائیں وہ سب مل کر اس بات پر اتحاد کر لیں کہ وہ کسی ملک کو غلام نہیں رہنے دیں گے اور سب مل کر اس کی آزادی کی جد و جہد کریں گے۔وہ اس بات پر اکٹھے ہو جائیں کہ اختلاف کے باوجود ہم دشمن سے اکٹھے ہو کر لڑیں گے