مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 546 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 546

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول حیثیت سے آزاد ہو گیا۔520 یہ وہ تاریخ ہے جو ہر تاریخ کی کتاب میں مل جائے گی لیکن ہم تاریخ کے اس پہلو کو بیان کرتے ہیں جسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ لیبیا کی تقسیم کا فیصلہ ہو گیا تھا۔تین بڑی طاقتیں اس پر متفق تھیں اور یہ اس زمانے کی بات ہے جس میں یہ بات کافی حد تک نا قابل یقین سمجھی جاتی تھی کہ ایک بات پر یہ تین بڑی طاقتیں متفق ہوں اور پھرایسی بات پر مشتمل قرار داد ناکام رہے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ہی وہ تاریخی شخصیت تھے جو لیبیا کی تقسیم کے سب سے زیادہ خلاف تھے اور آپ ہی تھے جنہوں نے خدا داد قانونی صلاحیتوں اور ذہانت سے اس قرار داد کو نا کام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔اسکی تفصیل کا خلاصہ حضرت چوہدری صاحب کی خود نوشت تحدیث نعمت سے پیش ہے: اس وقت اقوام متحدہ کے ممبران ملکوں کی تعداد ساٹھ سے کم تھی اور قواعد کے مطابق کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لئے دو تہائی اکثریت کے ووٹ درکار ہوتے تھے جبکہ اس کو ناکام کرنے کے لئے ایک تہائی سے زیادہ ووٹ مطلوب ہوتے تھے۔حضرت چوہدری صاحب فرماتے ہیں: مغربی طاقتوں نے تو سمجھا ہو گا کہ جو تجویز وہ کریں گے اسمبلی اس پر مہر تصدیق ثبت کر دے گی۔میرا خیال تھا کہ اگر ہم اس تجویز کو رڈ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو لیبیا کے جلد آزاد ہونے کی صورت پیدا ہو جائے گی اور اگر لیبیا آزاد ہو جائے تو شمال مغربی افریقہ کے تینوں عرب ممالک یعنی تونس ، الجزائر اور مراکش کی آزادی کا راستہ کھل جائے گا۔اس لئے میری نگہ میں مجوزہ قرار داد کا رد کیا جانا از بس ضروری تھا۔مغربی طاقتوں نے ٹریپولی (طرابلس) کی نگرانی اٹلی کے سپرد کرنے کی تجویز سے لاطینی امریکن ریاستوں کی تائید حاصل کر لی تھی۔۔۔اپنی طرف سے پوری کوشش کرنے کے بعد بھی ہمیں قرارداد کے خلاف صرف 15 آراء ملنے کا یقین تھا۔عرب ریاستیں تو قرارداد کے خلاف تھیں لیکن اس وقت صرف چھ عرب ریاستیں اقوام متحدہ کی رکن تھیں۔ان میں سے مصر کے وزیر خارجہ خشا با پاشا بھی پوری جد و جہد کر رہے تھے اور ہم دونوں آپس میں مشورے کرتے رہتے تھے۔