مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 545 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 545

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 519 لیبیا کی آزادی میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا کردار 1912ء کی جنگ میں اٹلی نے بآسانی ترکی افواج کو شکست دے کر لیبیا پر قبضہ کر لیا تھا۔لیکن اس کے بعد عرب آبادی کو زیر اقتدار لانے میں اٹلی کو بہت مشکل کا سامنا ہوا۔اس مہم کے سر کرنے کی ذمہ داری مارشل بڈو گلیو پر ڈالی گئی جس نے مزعومہ قیام امن کے لئے نہایت ہولناک طریق اختیار کئے۔مثلاً بڑے بڑے قائدین جو اطالوی اقتدار کے سامنے سرخم نہیں کرتے تھے کو جبراً ہوائی جہاز میں کئی ہزار فٹ کی بلندی پر لے جا کر جہاز سے نیچے گرا دیا جاتا۔یا اگر کسی بستی یا علاقے کے لوگوں کی طرف سے اٹھ کھڑے ہونے کا خدشہ ہوتا تو اس کا تو پوں اور ٹینکوں سے محاصرہ کر کے اس علاقے کے پانیوں میں زہر ملا دیا جاتا جس سے اکثریت تو زہریلا پانی پینے سے مرجاتی تھی لیکن جو اس علاقے سے باہر بھاگنے کی کوشش کرتا وہ تو پوں اور گولیوں کا نشانہ بنا دیا جاتا۔1949ء میں بڑی طاقتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ لیبیا کو تین حصوں میں تقسیم کر کے گویا تین ملک بنا دیئے جائیں۔چنانچہ طرابلس کو اٹلی کی نگرانی میں ، برقہ کو برطانیہ کی جبکہ فزان فرانس کی نگرانی میں مزید دس سال تک رکھنے کا فیصلہ ہوا ، جس کے بعد لیبیا کے ان تین حصوں کو آزادی دینے کی تجویز تھی۔13 رمئی 1949 ء کو یہ قرار داد ووٹنگ کے لئے جنرل اسمبلی میں پیش ہوئی۔لیکن یہ تجویز منظور نہ ہوسکی کیونکہ اس کو مطلوبہ ووٹ نہ مل سکے۔چنانچہ جنرل اسمبلی کو 21 /نومبر 1949ء کو لیبیا کی آزادی کا فیصلہ کرنا پڑا۔اور تقسیم کے بغیر متحدہ لیبیا ایک ملک کی