مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 536 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 536

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 512 جلسہ عام منانے کا فیصلہ کیا گیا اور علاوہ اخباروں میں اشتہار دینے کے قریب 500 دعوتی کارڈ جاری کئے گئے۔ایک روز قبل مخالف علماء نے جمعہ کے خطبوں میں نہایت زہر آلود تقریریں کر کے لوگوں کو جلسہ میں آنے سے منع کیا لیکن ان مخالفانہ کوششوں کے باوجود جلسہ بہت کامیاب رہا۔حاضرین کے لئے تین سو کرسیاں بچھائی گئی تھیں جو مقررہ پروگرام سے ہیں منٹ پہلے پر ہو گئیں اس لئے جلسہ کی کارروائی بھی پہلے ہی شروع کر دی گئی۔صدر جلسہ عبدہ سعید صوفی تھے جن کے صدارتی خطاب کے بعد بالترتیب منیر محمد خاں (ابن میجر ڈاکٹر محمد خاں ) اور عبداللہ محمد الشبوطی نے مؤثر تقریریں کیں۔کرسیوں پر بیٹھنے والوں کے علاوہ جلسہ گاہ کے اردگرد قریباً ایک ہزار نفوس نے پوری خاموشی اور دلچسپی سے تقریر میں سنیں اور نہایت عمدہ اثر لے کر گئے اور بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوا۔اس کامیاب تجربہ سے عدنی احمدیوں کے حوصلے بلند ہو گئے اور انہوں نے ہر سال جلسہ سیرۃ النبی منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔میجر ڈاکٹر محمد خاں عبد الله محمد الشبوطی ، عبده سعید صوفی ، احمد محمد الشبوطی ، سیف محمد شبوطی نے اس جلسہ کی کامیابی میں نمایاں حصہ لیا۔عبد الله الشبوطی اور سلطان الشبوطی کی ربوہ آمد محمود عبد الله الشبوطی صاحب ابھی ربوہ میں ہی تھے کہ ان کے والد عبداللہ الشبوطی اور چا سلطان محمد الشبوطی ربوہ تشریف لے گئے جہاں انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی مکرمہ نسرین صاحبہ بنت بشیر احمد شاہ صاحب دوا خانہ خدمت خلق ربوہ سے کر دی۔بعد ازاں انہوں نے قادیان کا سفر بھی اختیار کیا اور جلسہ سالانہ قادیان میں بھی شرکت کی۔واپسی سے قبل دونوں بھائی نئی دہلی بھی گئے جہاں ان کا یمنی دوست صالح شبیبی صاحب انڈونیشین ایمبیسی میں ملازم تھا ان کو ملنے کے بعد یہ برادران واپس یمن چلے گئے۔حضرت مصلح موعودؓ سے یادگار ملاقات ربوہ میں قیام کے دوران ان دونوں بھائیوں کی حضرت مصلح موعودؓ سے ملاقات بھی ہوئی جس میں حضور نے سفر یورپ کے دوران یمن سے گزرنے کا ذکر فرمایا اور ان کو اپنا عصا عطا فرمایا جو آج بھی ان کے بیٹے محمود عبد اللہ الشبوطی کے پاس موجود ہے۔