مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 531
507 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول تو اہی کے علماء کو تبلیغی خطوط لکھے اور ان تک امام مہدی کے ظہور کی خوشخبری پہنچائی۔علاوہ ازیں ایک عیسائی ڈاکٹر کو جو پہلے مسلمان تھا اور پھر مرتد ہو گیا ایک تبلیغی مکتوب کے ذریعہ دعوت اسلام دی یہ مستقل دار التبلیغ کا ایک بھاری فائدہ یہ بھی ہوا کہ عوام سے براہ راست رابطہ اور تعلق پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا اور سعید الفطرت لوگ روزانہ بڑی کثرت سے دار التبلیغ میں جمع ہونے اور پیغام حق سننے لگے۔عبد اللہ محمد شبوطی کی قبول احمدیت 17 اکتوبر 1947 ء بروز جمعہ المبارک عدن مشن کی تاریخ میں بہت مبارک دن تھا۔جبکہ ایک یمنی عرب عبدالله محمد شبوطی جو ان دنوں شیخ عثمان میں بودو باش رکھتے تھے ساڑھے گیارہ بجے بیعت کا خط لکھ کر داخل احمدیت ہو گئے۔اور اپنے علم اور خلوص میں جلد جلد ترقی کر کے تبلیغ احمدیت میں مولوی صاحب کے دست راست ہو گئے۔اس کامیابی نے شیخ عثمان کے علماء اور فقہاء کو اور بھی مشتعل کر دیا اور وہ پہلے سے زیادہ مخالفت کی آگ بھڑ کانے لگے مگر مولوی غلام احمد صاحب اور عبداللہ محمد شبوطی صاحب نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور نہایت بے جگری ، جوش اور فداکاری کی روح کے ساتھ ہر مجلس میں اور ہر جگہ دن اور رات زبانی اور تحریری طور پر پیغام احمدیت پہنچاتے چلے گئے۔اور امراء، غرباء، علماء اور فقہاء غرض کہ ہر طبقہ کے لوگوں کو ان کے گھروں میں جا کر نہایت خاکساری اور عاجزی سے دعوت حق دینے لگے۔نتیجہ یہ ہوا کہ بعض وہ لوگ جو پہلے بات تک سننا گوارا نہ کرتے تھے اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تفسیر کو سن کر عش عش کرنے لگے حتی کہ بعض نے یہ اقرار کیا کہ حضرت مرزا صاحب کی بیان فرمودہ تفسیر واقعی الہامی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب سے آپ کو علم لدنی سے نوازا ہے۔علماء کی طرف سے کمشنر کو عرضی اور اس کا رد عمل نومبر 1947ء میں علماء نے عدن ، شیخ عثمان اور تو اہی کے مختلف لوگوں سے ایک عرضی دستخط کروا کر کمشنر کو دی کہ ہم اس مبلغ قادیان کا یہاں رہنا پسند نہیں کرتے یہ ہمارے ایمانوں کو