مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 529
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد اول 505 ملاقاتوں اور تقسیم لٹریچر کے ذریعہ سے زور شور سے تبلیغ شروع کر دی۔ان مقامات کا انتخاب اس لئے کیا گیا تھا کہ ان میں احمدی ڈاکٹر قیام پذیر تھے۔چنانچہ عدن میں ڈاکٹر فیروز الدین صاحب اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب، شیخ عثمان میں ڈاکٹر محمد خان صاحب اور تو اہی میں ڈاکٹر کیپٹن عزیز بشیری صاحب رہتے تھے۔مولوی صاحب موصوف ہفتے میں دو دو دن شیخ عثمان اور تو اہی میں اور تین دن عدن میں تبلیغی فرائض سرانجام دیتے تھے اور جمعہ بھی یہیں پڑھاتے تھے۔چنانچہ آپ نے عربی کتب میں سے سیرۃ الا بدال ، اعجاز مسیح التبلیغ ، الاستفتاء۔اردو میں احمدی اور غیر احمدی میں فرق، پیغام صلح اور انگریزی میں احمد یہ موومنٹ، پیغام صلح، اور تحفہ شہزادہ ویلز۔بعض عربوں ، ہندوستانیوں اور انگریزوں کو پڑھنے کے لئے دیں جس سے خصوصاً انگریزوں اور عیسائیوں میں اشتعال پھیل گیا اور انہوں نے حکام بالا تک رپورٹ کر دی۔سرکاری مخالفت انسپکٹر سی آئی ڈی نے مولوی غلام احمد صاحب کو بلایا۔اور وہ لٹریچر جو آپ نے تقسیم کیا تھا اس کی ایک ایک کاپی ان سے طلب کی نیز حکم دیا کہ آپ اپنا لٹریچر بازاروں میں تقسیم نہ کریں صرف اپنے گھروں میں لوگوں کو بلا کر اور دعوت دے کر لیکچر یا لٹریچر دے سکتے ہیں۔یہ واقعہ ماہ اکتوبر 1946 ء میں پیش آیا۔جس کے ڈیڑھ مہینہ بعد کیتھولک چرچ کے ایک پادری نے شکایت کر دی کہ مولوی صاحب پبلک لیکچر دیتے اور کیتھولک چرچ میں لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عدن نے مولوی صاحب موصوف کو تنبیہ کی کہ وہ آئندہ نہ کیتھولک چرچ میں کوئی لٹریچر تقسیم کریں، نہ پلک لیکچر دیں ورنہ انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔مولوی صاحب نے بتایا کہ پبلک پیچر دینے کا الزام غلط ہے البتہ لٹریچر میں ضرور دیتا ہوں مگر صرف اسی طبقہ کو جو علمی دلچسپی رکھتا ہے۔مولوی صاحب نے ان سے کہا کہ عیسائی مشنری تو کھلے بندوں دندناتے پھر رہے ہیں کیا انہیں چھٹی ہے اور صرف مجھ پر پابندی ہے ؟ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے جواب دیا کہ یہ پابندی آپ پر ہی عائد کی جارہی ہے عیسائیوں پر اطلاق نہ ہوگا۔علماء کی مخالفت عیسائیوں کی انگیخت اور شرارت کے بعد ماہ مئی 1947 ء میں بعض علماء نے بھی مخالفت