مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 528
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول مبشر اسلامی کا عدن میں ورود 504 مولوی غلام احمد صاحب مبشر 4 راگست 1946ء کو قادیان سے روانہ ہو کر تیسرے دن 6 اگست کو بمبئی پہنچے جہاں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر اور دوسرے احباب جماعت نے ان کا استقبال کیا۔بعد ازاں 9 اگست کو جہاز میں سوار ہوئے اور 19 راگست بروز سوموار عدن پہنچے۔بندرگاہ پر ڈاکٹر فیروز الدین صاحب اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب آپ کو لینے کے لئے پہلے سے موجود تھے۔ابتدائی تبلیغی سرگرمیاں اور مولوی غلام احمد صاحب مبشر حسب فیصلہ ڈاکٹر محمد احمد صاحب کے ہاں مقیم ہوئے۔اور جلد ہی ڈاکٹر محمد احمد صاحب اور ڈاکٹر فیروز الدین صاحب اور ڈاکٹر عبد اللطیف صاحب کے ساتھ وفد کی صورت میں عدن سے دس میل کے فاصلہ پر واقع شیخ عثمان تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض عربی تصانیف مثلاً الاستفتاء، الخطاب الجليل، التبليغ ) سيرة الابدال وغیرہ مختلف اشخاص کو پڑھنے کے لئے دیں۔اور زبانی بھی پیغام حق پہنچایا۔علاوہ ازیں عدن میں عربوں ، عیسائیوں اور یہودیوں میں التبليغ ، سیرۃ الا بدال، نظام نو (انگریزی)، اسلام اور دیگر مذاہب ، میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں، وغیرہ کتب اور ٹریکٹ تقسیم کئے۔احمدی ڈاکٹروں نے ابتداء ہی سے یہ خاص اہتمام کیا کہ وہ اولین فرصت میں اپنے حلقہ اثر کے دوستوں کو مبشر اسلامی سے متعارف کرائیں۔اس غرض کے لئے انہوں نے بعض خاص تقریبات بھی منعقد کیں۔جن میں عدن کے باشندوں خصوصا نو جوانوں کو مدعو کیا۔خود مولوی صاحب بھی اشاعت حق کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے بھی مولوی صاحب کی پُر جوش تبلیغ میں ایسی برکت ڈالی کہ پہلے مہینہ میں ہی ایک دوست احمد علی صاحب جو ہندؤوں سے مسلمان ہوئے تھے اور شیخ عثمان کے نواحی علاقہ کے باشندے اور عدن کے رہنے والے تھے حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے۔حضرت مصلح موعود نے ان کی بیعت قبول فرمائی اور مولوی غلام احمد صاحب کو ارشاد فرمایا تبلیغ پر خاص زور دیں۔اس پر مولوی صاحب نے عدن ، شیخ عثمان اور تواہی میں باقاعدہ پروگرام کے مطابق انفرادی کی