مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 526
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 502 ہیں صرف ایک تحریک مسلمانوں کی مذہبی تحریک ہے اور وہ احمدیت ہے۔پاکستان خواہ کتنا بھی مضبوط ہو جائے کیا عراقی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔کیا شامی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔کیا لبنانی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔کیا حجازی کہیں گے کہ ہم پاکستانی ہیں۔شامی تو اس بات کے لئے بھی تیار نہیں کہ وہ لبنانی یا حجازی کہلائیں حالانکہ وہ ان کے ہم قوم ہیں۔پھر لبنانی اور حجازی اور عراقی اور شامی پاکستانی کہلا نا کب برداشت کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ فوراً تو اتحاد کر سکتے ہیں مگر وہ ایک پارٹی اور ایک جماعت نہیں کہلا سکتے۔صرف ایک تحریک احمدیت ہی ایسی ہے جس میں سارے کے سارے شامل ہو سکتے ہیں عراقی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں۔عربی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں۔حجازی بھی اس میں شامل ہو کر کہہ سکتا ہے کہ میں احمدی ہوں اور عملاً ایسا ہو رہا ہے۔وہ عربی ہونے کے باوجود اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم احمدیت میں شامل ہیں جس کا مرکز پاکستان میں ہے اور اس طرح وہ ایک رنگ میں پاکستان کی ماتحتی قبول کرتے ہیں مگر یہ ماتحتی احمدیت میں شامل ہو کر ہی کی جاسکتی ہے اس کے بغیر نہیں۔چنانچہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ عربی جو اس غرور میں رہتا ہے کہ میں اس ملک کا رہنے والا ہوں جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے میرا مقابلہ کوئی اور شخص کہاں کر سکتا ہے وہ احمدیت میں شامل ہو کر بر عظیم ہندو پاکستان کا بھی ادب و احترام کرتا ہے اور یہاں مقدس مقامات کی زیارتوں کے لئے بھی آتا ہے۔غرض ایک ہی چیز ہے جس کے ذریعہ دنیائے اسلام پھر متحد ہو سکتی ہے اور جس کے ذریعہ دوسری دنیا پر کامیابی اور حاصل ہوسکتی ہے اور وہ احمدیت ہے۔تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 436-437)