مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 522 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 522

498 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۔اور اگر وہ خوبیاں خاص خاص لوگوں میں پائی جاتیں تھیں تو کچھ خوبیاں تو قریباً ہر قوم میں ہی پائی جاتی ہیں اور اس وجہ سے عربوں کی کوئی خصوصیت باقی نہیں رہتی۔۔اصل بات یہ ہے کہ منیر الحصنی صاحب شام سے آئے ہوئے ہیں اور اس وقت شام اور لبنان میں ایک تحریک پیدا ہو رہی ہے جس سے وہ متاثر ہیں اور اسی سے متاثر ہو کر انہوں نے یہ مضمون بیان کیا ہے لیکن اس امر کو میں بعد میں کسی وقت بیان کروں گا پہلے میں پس پردہ والے حصہ کو لیتا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ وہ کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عرب میں کچھ عیسائی آباد ہیں اور کچھ مسلمان، عیسائی کم ہیں اور مسلمان زیادہ ہیں۔جب عربوں کا ترکوں کے ساتھ اختلاف ہوا اور عربوں نے دیکھا کہ ترک ہمیشہ ہم پر مظالم کرتے آئے ہیں اور انہوں نے ہماری آزادی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں تو ان کے اندر حریت اور آزادی کی روح بیدار ہوئی۔سیاسی طور پر جب کسی ملک میں آزادی کی روح پیدا ہو تو وہ ساری قوموں کے اتحاد کی خواہاں ہوتی ہے۔جب عربوں کے اندر آزادی کی روح پیدا ہوئی اور اُنہوں نے بلا لحاظ مذہب و ملت ایک ہونا چاہا تو جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف مستقبل کے حالات پر نظر کر کے قو میں ایک نہیں ہوسکتیں بلکہ اتحاد کے لئے ماضی کی روایات پر بھی حصر کیا جاتا ہے اور پرانی باتوں کو تاریخوں سے نکال نکال کر کہا جاتا ہے کہ ہم ایک ہیں اس لئے ہمیں دشمن کے مقابلہ میں متحد ہو جانا چاہئے۔۔۔اگر ایک قوم اپنے آپ کو الگ قرار دے دے اور دوسری الگ تو اتحاد کس طرح ہو سکتا ہے۔عرب کے متعصب عیسائی پادریوں نے جب دیکھا کہ اتحاد کی کوششیں ہو رہی ہیں تو انہوں نے اس سے ناجائز فائدہ اُٹھانا چاہا اور انہوں نے یہ کوششیں شروع کر دیں کہ عرب چاہے متحد ہو جائے لیکن عیسائیت کو غلبہ حاصل ہو جائے۔چنانچہ میں نے اسی قسم کے متعدد پادریوں کی بعض کتابیں پڑھی ہیں جن میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کے کوشش کی ہے کہ عربی زبان اصل میں اریک یعنی آرامی زبان ہے اور اسی زبان کی مدد سے عربی زبان نے ترقی اور ارتقاء حاصل کیا ہے۔ان عیسائی مصنفین نے عربی الفاظ اريمك زبان کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کی ہے مثلاً استفعال کا لفظ ہے، انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ است ار کمک لفظ ہے اور اسی سے عربوں نے استفعال بنالیا ہے یا ان اريمك لفظ ہے اور اسی سے عربوں نے انفعال بنا لیا ہے حالانکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر بحث فرمائی ہے حقیقت یہ ہے کہ