مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 516 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 516

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 492 وطن جانے کے بعد الدکتور عبدالوہاب العسکری نے اپنی کتاب ” مشاہداتی فی سماء الشرق میں بھی یہی رائے ظاہر کی۔ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد نمبر 8 صفحہ 140) کل اور آج میں فرق ایک وقت تھا جب جماعت احمدیہ کا دفاع اور جہاد اور اسلام کی اشاعت کی مساعی کو قابل قدر نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔اس وقت جماعت احمدیہ کے ان تراجم قرآن کے بارہ میں علماء یہ رائے رکھتے تھے کہ اس سے بہتر ترجمہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔اور یہ تفسیر در حقیقت اسلام کے حقیقی دفاع سے عبارت ہے۔شاید اس وقت انکے پاس اس کے سوا اور کوئی اعتراض نہ تھا کہ ان تراجم و تفاسیر کے ساتھ مسیح موعود علیہ السلام مرزا غلام احمد قادیانی کا ذکر نہ کیا جائے۔اب سوچنے کا مقام ہے کہ کیا جماعت احمدیہ نے اپنا طریق تبلیغ بدل لیا ہے ، یا نعوذ باللہ اسلام کی بجائے کسی اور دین کی اشاعت کرنے لگی ہے؟ کیونکہ اگر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تو یہی علماء آج انہی تراجم قرآن کو تحریف ، اسی اشاعت اسلام کو تضلیل ، اور اسی دفاع اسلام کو نئے دین کا پرچار کیوں قرار دے رہے ہیں۔جب کوئی منصف حقائق کے آئینے میں ان امور کا تجزیہ کرتا ہے تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ محض حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی عداوت میں ان لوگوں نے حقائق کو مسخ کیا، جنون کو عقل اور عقل کو جنون قرار دیا، اور اسلام کی سرحدوں کے محافظوں کو غدار کہنے کی جسارت کی ہے۔ان سے پہلے لوگوں میں کسی قدر حیا اور حقیقت پسندی اور انصاف کا پاس تھا۔اس لئے انکے تبصرے کسی قدر حقیقت پر مبنی تھے۔بعد میں آنے والوں نے اپنی آنکھوں پر تعصب اور عداوت کے پردے ڈال کر حقائق سے پہلو تہی اختیار کی ہے جس کی وجہ سے صواب رائے سے محروم ہو گئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے: أنظر إلى أقوالهم و تناقض سلب العناد إصابة الآراء تو ان کی باتوں اور ان میں موجود تضاد کو دیکھ کہ کس طرح دشمنی نے ان سے درست رائے سلب کر لی ہے۔00000