مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 515
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 491 بڑا کارنامہ ہے نیز وہ مسجدیں ہیں جو انہوں نے امریکہ ، افریقہ اور یورپ کے مختلف شہروں میں بنائی ہیں اور یہ وہ سنت ناطقہ ہے جس کو لے کر وہ کھڑے ہوئے ہیں اور اسی کے ذریعہ اسلامی خدمات بجالا رہے ہیں۔بلا شبہ جماعت احمدیہ کے ہاتھوں اسلام کا مستقبل ا روشن ہو گیا ہے۔“ (ماخوذ از مجلۃ البشری مجلد 46 مارچ 1989، تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 532-533) عبدالوہاب العسکری کی ربوہ میں آمد الحاج الدكتور عبد الوہاب العسکری (ایڈیٹر ” السلام البغدادیہ) کا ذکر چلا ہے تو آپ کے ربوہ میں تشریف لانے اور کچھ دیر قیام کرنے کے بارہ میں بھی مختصرا یہیں پہ کچھ درج کرتے جاتے ہیں۔آپ عراق کی طرف سے مؤتمر عالم اسلامی کے نمائندہ تھے۔1951ء کے شروع میں سلسلہ احمدیہ کے جدید مرکز ربوہ میں تشریف لائے۔24 جنوری کو جامعہ المبشرین میں آپ کے اعزاز میں ایک اہم جلسہ منعقد کیا گیا۔جس کی صدارت شیخ نور احمد صاحب منیر سابق مبلغ دمشق نے کی۔اس جلسہ میں الدکتور عبدالوہاب العسکری نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: و تقسیم ملک کے بعد جو تبا ہی آئی اس سے جس طرح دوسرے مسلمان محفوظ نہیں رہے آپ لوگ بھی اس کی زد سے نہیں بچ سکے۔لیکن اتنی بڑی تکالیف کو برداشت کرنے کے بعد اس علاقہ میں آپ جس قسم کی جدو جہد کر رہے ہیں اور اپنی زندگی کا جو ثبوت آپ لوگوں نے پیش کیا ہے وہ ہمارے لئے قابل تقلید ہے اور میں اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں۔سبقت کی جو روح آپ لوگوں میں پائی جاتی ہے اور آپ جس تیز رفتاری سے ترقی کر رہے ہیں بلاشک یہ حضرت صاحب المقام الجلیل امام جماعت احمدیہ کی خاص تو جہات کا نتیجہ ہے۔“ پھر کہا:۔میں نے آپ کی جماعت کو بہترین جماعت پایا ہے جو نیکی کا حکم دیتی ہے نماز قائم کرتی ہے زکوۃ دیتی ہے۔خدا تعالیٰ نے جو کچھ انہیں دیا ہے خرچ کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جہاد کرتی ہے۔ان صفات کی مالک جماعت اس لائق ہے کہ اس کا مستقبل شاندار اور روشن ہو کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے مومن بندوں کی ہمیشہ مدد کرتا ہے۔“ (الفضل 7 تبلیغ 1330 ش صفحہ 4)