مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 507
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 483 افریقہ کے غیر آباد علاقوں اور وسط افریقہ اور امریکہ میں تو ان کی یہ کوششیں اور بھی زیادہ ہیں۔“ * اخبار الفتح، قاہرہ نے اپنے شمارہ بتاریخ 30 / ربیع الثانی 1351ھ میں امیر عادل ارسلان کا مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے لکھا: "أما القاديانية فهم كمبشرين البروتستانت والكاثوليك ذوو نشاط وغيرة دينية وقد رأيت بعض دعاتهم في الولايات المتحدة وعلمت أن أتباعهم لا يقلون عن مئتي ألف ولو كان دعاتهم بيض اللون لبلغ أتباعهم الملايين ولكن هنود سود، واللون في أمريكا هو كل شيء“ جہاں تک قادیانی فرقہ کا تعلق ہے تو وہ عیسائی فرقوں پروٹسٹنٹ اور کیتھولک کی طرح بہت فعال اور دینی غیرت رکھنے والے ہیں۔میں امریکا میں ان کے بعض مبلغین سے ملا ہوں اور ان سے مجھے معلوم ہوا کہ انکی تعداد دو لاکھ سے کم نہیں ہے۔اگر ان کے مبلغین سفید فام ہوتے تو آج ان کے پیروکاروں کی تعداد ملیز تک پہنچ چکی ہوتی۔لیکن انڈین تو سیاہی مائل رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ امریکا میں تو رنگ ہی سب کچھ ہے۔نیو یارک سے عربی زبان میں شائع ہونے والے اخبار ”البیان“ نے اپنی 17 مئی 1932ء کی اشاعت میں صوفی مطیع الرحمن بنگالی صاحب کے بارہ میں لکھا: "إن سماحة المفتى صوفى مطيع الرحمن البنغالي أحد دعاة الأحمدية في شيكاغو قد زار مؤخرا بعض المدن الأمريكية۔۔۔۔۔۔و ألقى عدة محاضرات على ألوف من الناس في نواديها في موضوع الدين الإسلام وكان الإقبال على سماع محاضراته عظيما وأسفرت نتيجة مساعيه التبشيرية عن نجاح كبير حيث اعتنق الإسلام ثمانية عشر رجلا على يده 66 جناب صوفی مطیع الرحمن بنگالی صاحب جو کہ احمدیت کے مبلغین میں سے ایک ہیں نے پچھلے دنوں امریکہ کے بعض شہروں کا دورہ کیا اور ان شہروں کے مختلف کلبوں اور مجالس میں کئی ہزار افراد کے مجمعوں میں دین اسلام کے موضوع پر کئی لیکچر دیئے۔انکے لیکچر سننے کے لئے آنے والوں کا جوش قابل دید تھا۔انکی تبلیغی کوششیں بہت بڑی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت