مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 506 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 506

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول بهذه الحركة التي لم يسبق لها مثيل ويبدو أنهم يخشون أن تنجح في تحويل عدد كبير من أبناء أوروبا إلى الدين الإسلامي في وقت تزعزعت فيه عقيدة كثيرة من الناس حتى اضطرت الكنيسة الإنجليزية أن ترصد مليونا من الجنيهات للتبشير بالمسيحية بين أهل بريطانيا أنفسهم 66 482 تیرہ ہندوستانی مسلمانوں پر مشتمل ایک وفد اہل یورپ میں تبلیغ اسلام کا فریضہ سر انجام ینے کیلئے پہنچا ہے، تا کہ اس براعظم کو جسے اندھی مادیت نے روحانی طور پر پاش پاش کر دیا ہے اسلام کی دینی روحانی اور تحمل و رواداری پر مشتمل تعالیم کی تبلیغ کریں۔یہ وفد نو جوان مبلغین پر مشتمل ہے جو اپنے دین کی تبلیغ کے لئے پر جوش ہیں۔ان میں سے سب سے بڑے ممبر کی عمر 44 سال ہے۔یہ وفد مولانا شمس صاحب امام مسجد لندن کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرے گا جنہوں نے اسلامی تعلیمات کا نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہوا ہے اور برطانیہ میں اسلامی امور کی انجام دہی کے فریضہ پر مامور ہیں۔آپ برطانیہ میں انگریزوں کی ایک جماعت کو دین اسلام سے روشناس کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں سے کئی نامور تعلیم یافتہ شخصیات بھی ہیں۔یورپ کے دینی حلقوں میں اس بے نظیر جماعت (احمدیت ) کو بہت اہمیت اور خاص مقام دیا جا رہا ہے۔اور ایسے لگتا ہے کہ اہل یورپ اس بات سے خائف ہیں کہ کہیں یہ جماعت بڑی تعداد میں یورپین لوگوں کو دین اسلام میں داخل نہ کر لے، خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ اکثر لوگوں کے عقیدہ کو زبردست دھچکا لگا ہوا ہے حتی کہ انگریزی کلیسا کو کئی ملین سٹرلنگ پونڈ اہل برطانیہ میں ہی عیسائیت کی تعلیم وتبلیغ کے لئے مختص کرنے پڑے ہیں۔۔۔۔اخبار الجزيرة عمان (اردن) مورخہ 12 / جون 1949 لکھتا ہے: نرى من واجبنا الاعتراف بنشاط دعاة الحركة الأحمدية وما يبذلون من الجهود في سبيل نشر الديانة الإسلامية ولا سيما في مجاهل أفريقيا وأواسطها وفي أمريكا ہم اس بات کا اعتراف کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے مبلغین بڑی ہمت اور تندہی سے اپنا کام کرتے ہیں اور اسلام کے پھیلانے کے لئے بہت جدو جہد کر رہے ہیں۔