مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 497
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 473 نہر سویز کا قضیہ، تیونس اور مراکش کی تحریک آزادی اور جماعت احمدیہ کا کردار مسئلہ فلسطین کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کی خدمات کا بتفصیل ذکر کرنے کے بعد اب اس عرصہ میں دیگر عرب ممالک کے لئے جماعت احمدیہ کی بعض خدمات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔نہر سویز پر برطانوی فوجیں قابض تھیں جن کی وجہ سے حکومت انگلستان اور حکومت مصر کے درمیان تنازع چل رہا تھا اور چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب (وزیر خارجہ پاکستان) مشرق وسطی کے اسلامی ممالک کے دوسرے مسائل کی طرح اس تنازع کو نمٹانے کی بھی جدو جہد فرما رہے تھے۔اس سلسلہ میں آپ نے جنوری 1952ء کے اجلاس سے جنرل اسمبلی کے بعد لنڈن میں برطانوی وزیر اعظم مسٹر ایڈن سے بھی بات چیت کی۔برطانیہ نے مصر کو مطلع کر دیا کہ وہ ایک معینہ میعاد کے اندر نہر سویز سے اپنی تمام فوجیں ہٹا لے گا۔اخبار الاهرام مصر ( 21 فروری 1952ء) نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا کہ اس فیصلہ میں چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب وزیر خارجہ پاکستان کی مساعی کا بھاری دخل ہے۔( بحوالہ الفضل 22 تبلیغ 1331 ہش بمطابق 22 فروری 1952 ء ) اس کامیاب گفت و شنید کے بعد چوہدری صاحب مشرق وسطی کے دورہ کے سلسلہ میں چار روز تک قاہرہ میں ٹھہرے اور اس قضیہ کو نمٹانے کے لئے مصر کے وزیر اعظم علی ماہر پاشا عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عزام پاشا نیز صلاح الدین پاشا، فوزی بیک (اقوام متحدہ میں مصر کے مستقل مندوب ) اور دیگر زعماء سے ملاقاتیں کیں۔اخبار ”زمیندار“ لاہور ( 29 فروری 1952 ء) میں یہ خبر شائع ہوئی۔قاہرہ 27 فروری۔