مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 492
470 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ہوں اور تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئیے کہ کل تمہیں دوستوں کی ضرورت پڑے گی۔کل تمہیں مشرق وسطی میں دوستوں کی ضرورت ہوگی۔پھر تم خود ہی ان علاقوں کے لوگوں کو اپنا کی دشمن کیوں بنارہے ہو۔ان ممالک میں اپنے فوائد کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہ نہ کرو۔نمائندہ المصور ( قاہرہ) کے احمدیوں کے خلاف تحریک کے بارہ میں تاثرات قاہرہ کے مشہور اخبار ( المصور ) کی نامہ نگار خصوصی السیدہ امینۃ السید ایجی ٹیشن کے زمانہ میں مصر سے خاص طور پر پاکستان آئیں اور کراچی اور راولپنڈی کے حالات اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کئے۔ان کے ذاتی تاثرات کا متعلقہ حصہ درج ذیل ہے۔” جب ہم نو گھنٹے کی لمبی مسافت کے بعد راولپنڈی پہنچے تو چونکہ وہاں پر مصری صحافی وفد کی آمد کی خبر پہنچ چکی تھی اس لئے لوگ بڑی کثرت کے ساتھ گاڑی پر پہنچ گئے تا کہ قادیانیت یا احمدی مذہب کے بارے میں ہمیں اپنی رائے سے مطلع کریں۔ملک میں لاقانونیت کا آغاز اس طرح ہوا کہ پہلے پانچ آدمیوں کی ایک کمیٹی کراچی گئی جس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام احمدیوں کو جن میں چوہدری ظفر اللہ خاں بھی شامل ہیں تمام حکومتی عہدوں سے علیحدہ کر دیا جائے۔نیز انہیں عیسائیوں ، ہندوؤں اور پارسیوں کی طرح ایک علیحدہ اقلیت قرار دیا جائے کیونکہ احمدیوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کے منکر ہیں اس کمیٹی نے حکومت کو چند دن کی مہلت دی جب حکومت پاکستان نے یہ مطالبات منظور نہ کئے اور مدت مقررہ گزرگئی تو ملک کے تمام اطراف میں سول نافرمانی کا اعلان کر دیا گیا مظاہرے ہوئے دکانیں بند کی گئیں اور وسائل آمد و رفت میں تعطل پیدا کی ہو گیا۔چونکہ حکومت پاکستان فتنہ پرور اصحاب کی حرکات سے پوری طرح آگاہ تھی اس لئے اس نے اس فتنہ کے لیڈروں کو گرفتار کر لیا اور اس طرح وقتی طور پر بغاوت کی آگ فرو ہو گئی۔یہ واقعہ ہے کہ جب ہم دار السلطنت پاکستان (کراچی) میں تھے تو اس تحریک کا آغاز ہوا اور ملک کے مختلف اطراف میں ہمارے ساتھ ساتھ یہ تحریک بھی چکر لگاتی رہی۔اس تحریک پر مجھے بہت حیرت تھی کیونکہ قادیانی مذہب یا احمد یہ جماعت تو قریباً سو سال سے قائم ہے اور آج تک اس عقیدہ کے لوگ آزادی اور سلامتی سے بستے رہے ہیں اور ان کی حیثیت مسلمانوں کے دوسرے فرقوں سنی، شیعہ اور وہابی و غیر ہم کی طرح ہے۔مجھے حیرت تھی کہ خاص