مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 493
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 471 طور پر ان دنوں میں احمدیوں کے خلاف طبائع میں کیوں اشتعال پیدا ہو گیا ہے؟ نیز یہ کہ انہیں عہدوں سے معزول کئے جانے اور اقلیت غیر مسلمہ قرار دینے کے مطالبہ کا حقیقی راز کیا ہے؟ اس سلسلہ میں میں نے بہت جستجو کی اور بہت سے سیاسی اور اجتماعی جماعتوں کے لیڈروں سے بات چیت کی۔آخر کار مجھ پر واضح ہو گیا کہ موجودہ ایجی ٹیشن خالص سیاسی تحریک ہے اور اس ایجی ٹیشن کے محرک دراصل پاکستان کے دوست نہیں ہیں اور ان کا حقیقی مقصد اس سے بہت مختلف ہے جیسا کہ ظاہر میں نظر آتا ہے اور حکومت کو اس کا پورا پورا علم ہے وہ بخوبی جانتی ہے کہ اندھیرے میں کون سے ہاتھ یہ تاریں ہلا رہے ہیں اس لئے حکومت نے اس فتنہ کے ذمہ داروں پر سختی سے گرفت کرنے میں ذرا غفلت نہیں برتی۔اس بارے میں میں نے پاکستان کے ایک بہت بڑے سیاستدان سے گفتگو کی جو اپنی آزادانہ رائے اور ذاتی اغراض سے بالا ہونے میں معروف ہے اس نے یہ کہتے ہوئے کہ میرا نام ظاہر نہ کیا جائے مجھے بتایا کہ ”بے شک تم ایک ایسی چھوٹی سی مسلم جماعت (جس کی تعداد سات آٹھ لاکھ سے زیادہ نہیں ) کے خلاف اس تحریک کو دیکھ کر دہشت زدہ ہوگی خصوصاً اس لئے کہ جب پاکستان میں لاکھوں کروڑوں سنی، شیعہ، آغا خانی اور وہابی موجود ہیں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے سے مختلف آراء رکھتا ہے تو یہ شور وشر اور ہنگامہ صرف احمدیوں کے خلاف ہی کیوں ہے؟ اس لئے میں اس جگہ معاملہ کی پوری وضاحت کے لئے بتا تا ہوں کہ اس کے لئے قادیانیوں کی ان گزشتہ چند سالوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہئے جب قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنانے کی تحریک شروع فرمائی تھی۔اس وقت جماعت احمد یہ جان و دل سے قائد اعظم مرحوم کے دوش بدوش کھڑی ہوئی اور اس جہاد میں اس نے قائد اعظم کی پوری پوری تائید کی اور وہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے تک ہر طرح ان کی مددگار رہی۔اس زمانہ میں ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک جماعت احرار کے نام سے موجود تھی وہ لوگ تقسیم ہند یعنی پاکستان بننے کے مخالف تھے انہوں نے مسٹر جناح کا مقابلہ کیا اور ان کی دعوت کی پورے زور سے مخالفت کی۔لیکن جب ان کی مرضی کے خلاف پاکستان بن گیا تو انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔اگر چہ احرار کا لیڈر اب تک بھارت میں ہے تاہم ان کی اکثریت پاکستان میں آگئی۔پاکستان بننے کے دن سے لے کر آج تک جماعت احمد یہ اور احراریوں میں شدید دشمنی ہے جو موجودہ فتنہ کے حقیقی محرک ہیں۔