مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 485 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 485

463 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول میں بیٹھ کر اٹلی روانہ ہو گئے جہاں 13 برس تک گمنام زندگی بسر کرنے کے بعد 18 / مارچ 1965ء کو اگلے جہان سدھار گئے۔مصر سے انکی روانگی کا نظارہ نہایت دردانگیز اور عبرتناک تھا۔ملک کو الوداع کہتے وقت شاہ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور انہوں نے اپنا چہرہ شرم کے مارے ڈھانپ لیا۔شاہ اس وقت حسرت و یاس اور مایوسی کی تصویر بنے ہوئے تھے اور زبانِ حال سے حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل حقیقت افروز عربی اشعار کی عملی تصدیق کر رہے تھے کہ یا مکفری إن العواقب فانظر مآل الأمر للتقى كالعقلاء إني أراك تمیس بالخيلاء أنسيت يوم الطعن والاسراء أيها الغالي وتأتى ساعة تعض يمينك الشلاء من الرحمن" تصنیف 1895ء) تمسی ترجمہ: اے میری تکفیر کرنے والے ! عاقبت تو متقی کی ہے پس دانشمندوں کی طرح آخری انجام پر نظر رکھ۔میں دیکھتا ہوں کہ تو مٹک کر ناز سے چلتا ہے کیا تو نے گوچ کے دن اور شام کی روانگی کو بھلا رکھا ہے؟ اے حد سے گزرنے والے تو بہ کر !! وہ گھڑی آنے والی ہے کہ تو اپنے شل ہاتھ کو دانتوں سے کاٹے گا۔مصریوں کا رد عمل اور تاثرات شاہ فاروق کی دستبرداری کی خبر مصر ریڈیو نے نشر کی تو ملک بھر میں مسرت و شادمانی کی ایک لہر دوڑ گئی (نوائے وقت (لاہور ) 30 جولائی 1952ء صفحہ 3 کالم (5) حتی کہ برطانیہ میں رہنے والے اکثر مصری باشندوں نے بھی شاہ کا تختہ الٹنے پر اظہار مسرت کیا نیز یہ رائے دی کہ شاہ کے خود غرض اور مطلب پرست حواری ہی شاہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر غیر ممالک میں مصر کے وقار کوٹھیس پہنچانے کا موجب بنے ہیں۔( زمیندار (لاہور) 3 راگست 1952 ، صفحہ 3 کالم 1 )