مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 483
461 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کہ میں جلالتہ الملک سے مطالبہ کروں کہ آپ ہفتہ کے دن 26 / جولائی 1952ء کو بارہ بجے دو پہر ولی عہد شہزادہ احمد فواد کے حق میں دستبردار ہو جائیں اور اسی روز چھ بجے شام سے پہلے اس کی ملک کو چھوڑ دیں ورنہ فوج عوام کی خواہش سے انکار کے جملہ نتائج کا ذمہ وار آپ کو قرار دے گی۔( محمد نجیب کمانڈرانچیف مسلح افواج (اسکندریہ 26 جولائی 1952ء) مصری حکومت نے سابق شاہ کی تمام جائیداد و املاک پر قبضہ کر لیا اور فاروق کو نوٹس دے دیا گیا کہ وہ اپنی جائیداد میں کسی قسم کا تصرف نہیں کر سکتے۔اور ان کی تمام خواہشات کو رد کر دیا گیا۔شاہ کی ذاتی ملکیت مصر میں دو لاکھ ایکڑ سے زیادہ تھی اور اس کے علاوہ وہ دو کروڑ پونڈ کی دولت کے مالک تھے جو امریکہ اور سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں جمع تھی۔شاہی محل میں ایک کمرہ جو قیمتی جواہرات سے لبالب تھا، کئی محلات ، قسم قسم کے پھلوں کے باغات، یہ سب کچھ بحق سرکار ضبط کر لئے گئے اور شاہ فاروق نے اپنے ہاتھ سے پروانہ معزولی یوں تحریر کیا:۔أمر ملكي رقم ٢٥ لسنة ١٩٥٢ نحن فاروق الأول ملك مصر والسودان لما كنا نتطلب الخير دائمًا لأمتنا، ونبتغى سعادتها ورقيها وكنا نرغب رغبة أكيدة في تجنيب البلاد المصاعب التي تواجهها في هذه الظروف الدقيقة ونزولا على إرادة الشعب قررنا النزول عن العرش لولى عهدنا الأمير أحمد فؤاد وأصدرنا أمرنا بهذا إلى حضرة صاحب المقام الرفيع على ماهر باشا رئيس مجلس الوزراء للعمل بمقتضاه - فاروق صدر بقصر رأس التين فى ٤ من ذي القعدة سنة ١٣٧١- ٢٦ يوليوسنة ١٩٥٢ ( المصور ( اکتوبر 1952ء) بحوالہ البشرى (حيفا) شمارہ نومبر 1952 ، صفحہ 165-166 ) (ترجمہ) شاہی فرمان نمبر 65 1952ء ہم ہیں فاروق الاول شاہ مصر وسوڈان۔چونکہ ہم ہمیشہ اپنی رعایا کی بہبود ، خوشحالی اور ترقی کے خواہشمند رہے ہیں اور ہماری یہ انتہائی خواہش رہی ہے کہ ملک کو مشکلات سے ان نازک حالات میں محفوظ رکھا جائے جن۔آجکل وہ دو چار ہے۔لہذا عوامی خواہش کے مطابق ہم نے تخت شاہی چھوڑنے اور ولی عہد