مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 21 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 21

21 24 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول پھر اسی کتاب میں دوسری جگہ حضور نے فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: اے عرب کے کی مشائخ اور حرمین شریفین کے چنیدہ لوگو! میں نے ان تمام امور کو ہندوستان کے علماء کے سامنے رکھا لیکن انہوں نے ان کو قبول نہ کیا۔میں نے انہیں سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھے ، میں نے ان کو جگانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں جاگے۔بلکہ اس کے برعکس میری تکفیر و تکذیب کی کوششوں میں لگ گئے۔اے عرب اور مصر اور بلا دشام وغیرہ کے برادران، جب میں نے دیکھا کہ یہ ایک عظیم نعمت ہے اور آسمان سے نازل ہونے والا مائدہ ہے اور عطاؤں والے خدا کی طرف سے ایک قابل قدرنشان ہے تو میرے دل نے چاہا کہ میں آپ کو اس میں شریک نہ کروں۔چنانچہ میں نے اس امر کی تبلیغ کو ایک فرض سمجھا اور ایسے قرض کے مشابہ خیال کیا جسے ادا کئے بغیر اسکا حق ادا نہیں ہوسکتا۔اب میں نے آپ کو وہ سب کہہ دیا ہے جو میرے لئے میرے رب کی طرف سے ڈالا گیا ہے اور میں اس بات کے انتظار میں ہوں کہ تم کس طرح اس کا جواب دیتے ہو“۔حضور کے پُر تاثیر کلمات کا جادو آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 488-490) حضور کے یہ پُر تاثیر کلمات ایسے ہیں کہ پتھر سے پتھر دل کو بھی پگھلا کے رکھ دیں۔لیکن اُس زمانہ میں حضوڑ کی کتب کا عربوں تک پہنچنا نہایت مشکل تھا اس لئے اس عرصہ میں اکثر عرب آپ کے عربی کلام کے حسن و تاثیر سے نا آشنا رہے۔لیکن تاریخ نے سینہ قرطاس پر بصد فخر ایک مثال یوں محفوظ کی کہ طرابلس کے ایک مشہور عالم السید محمد سعید الشامی نے جب یہ کتاب پڑھی تو بے ساختہ کہا: 'واللہ ایسی عبارت عرب نہیں لکھ سکتا۔اور بالآخر اس سے متاثر ہو کر احمدیت قبول کر لی۔ملخص از تاریخ احمدیت جلد 1 صفحه 473) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں قصیدہ 66 اسی کتاب ” التبلیغ “ کے آخر میں حضرت مسیح موعود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں ایک معجزہ نما عربی قصیدہ بھی رقم فرمایا ہے جو چودہ سو سال کے اسلامی لٹریچر