مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 22
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 22 میں اپنی نظیر آپ ہے۔جب حضور یہ قصیدہ لکھ چکے تو آپ کا روئے مبارک فرط مسرت سے چمک اٹھا اور آپ نے فرمایا: یہ قصیدہ جناب الہی میں قبول ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ جو شخص یہ قصیدہ حفظ کرلے گا اور ہمیشہ پڑھے گا میں اس کے دل میں اپنی اور اپنے رسول کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دوں گا ، اور اپنا قرب عطا کروں گا“۔جب یہ قصیدہ السید محمد سعید الشامی کو دکھایا گیا تو وہ پڑھ کر بے اختیار رونے لگے اور کہا: خدا کی قسم میں نے اس زمانہ کے عربوں کے اشعار بھی کبھی پسند نہیں کئے مگر ان اشعار کو میں حفظ کروں گا۔تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 473) یہ قصیدہ جماعت کے ہر چھوٹے بڑے میں یکساں مقبول ہے۔اس کی ابتدا اس شعر سے ہوتی ہے: یا عين فيض الله والعرفان يسعى إليك الخلق كالظمآن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی زبان کے بارہ میں بعض جاہل یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضور نے اچھی خاصی عربی پڑھی ہوئی تھی اور قادر الکلام تھے اور خدا کی طرف سے تعلیم محض ایک بنائی ہوئی بات ہے۔گو کہ یہ تحریر ایسے اعتراضات کے رد کے طور پر تو نہیں لکھی جارہی لیکن حضرت مسیح موعود کے جس عربی قصیدہ کی بات ہو رہی ہے اس کے بارہ میں ایک غیر از جماعت دوست کی رائے یہاں نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے جس میں مذکورہ بالا اعتراض کا بھی رڈ ہو جاتا ہے۔علامہ نیاز فتح پوری صاحب نے اس قصیدہ کے بارہ میں لکھا: ’اب سے تقریبا 65 سال قبل 1893ء کی بات ہے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے دعوی تجدید و مهدویت سے ملک کی فضا گونج رہی تھی اور مخالفت کا اک طوفان انکے خلاف برپا تھا۔آریہ عیسائی اور مسلم علماء کبھی ان کے مخالف تھے اور وہ تن تنہا ان تمام حریفوں کا مقابلہ کر رہے تھے۔یہی وہ زمانہ تھا جب انہوں نے مخالفین کو هَل مِن مُبارِز کے متعدد چیلنج دیئے اور ان میں سے کوئی سامنے نہ آیا۔ان پر منجملہ اور اتہامات میں سے ایک اتہام یہ بھی تھا کہ وہ عربی و فارسی سے نابلد ہیں۔اسی اتہام کی تردید میں انہوں نے یہ قصیدہ نعت عربی میں لکھ کر مخالفین کو