مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 479 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 479

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 457 پاکستان ایک علیحدہ آزاد خود مختار مملکت ہے؟ اس نے ہزار ہا میل دور بیٹھ کر یہ مطالبہ سننے اور سنانے کے بغیر کیا ہے اور اس طرح مذہب کے نام پر سب سے بڑی اسلامی حکومت کی پوزیشن کو نازک بنایا ہے۔میں پوچھتا کی ہوں و من أعطاه حق الإفتاء ؟ کس شخص نے مفتی کو فتویٰ کا حق دیا ہے اور کس شخص نے مفتی کو مذہب کے نام پر تمام دنیا کے متعلق رائے ظاہر کرنے کی اجازت دی ہے۔کیا مصر ہی صرف ایک اسلامی حکومت ہے اس کے سوا اور کوئی حکومت اسلامی حکومت نہیں ہے؟ اور کیا صرف مفتی مصر ہی دنیا میں ایک مفتی ہے اور اسکے سوا اور کوئی مفتی نہیں ہے؟ وفى أى رجل أفتى؟ في رجل صنع للإسلام والمسلمين مالم يصنعه المفتى ولن يصنعه ولو عاش مثل عمره الحاضر۔اس نے کس عظیم المرتبت شخص کے متعلق یہ فتویٰ دیا ؟ ہاں اس عظیم شخصیت کے متعلق جس نے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کے لئے وہ کام کیا ہے جو نہ مفتی کر سکا ہے اور نہ آئندہ کر سکے گا خواہ وہ اپنی موجودہ عمر کے برابر بھی زندہ رہے۔ان تمام وجوہات کی بناء پر ہم مطالبہ کرتے ہیں:۔اول : مفتی الدیار“ کے لقب کی منسوخی کا۔کیونکہ وہ ایک فرد کی حیثیت سے ڈکٹیٹر شپ کی نمائندگی کرتا ہے جس کی دین میں کوئی سند نہیں ہے۔دوم: مجلس افتاء کے توڑنے کا ، ہاں اس مجلس کو مختلف علمی امور کی تحقیقات کے ایسے حلقے میں بدل دیا جائے جس کا فیصلہ نہ تو کسی کو ملزم بنائے اور نہ ہی کسی مسلمان کو کا فرٹھہرائے۔سوم : از ہر یونیورسٹی کے ایک سونو جوانوں کو یونیورسٹی سے فراغت کے بعد علوم جدیدہ کی تحصیل کے لئے دنیا کے ترقی یافتہ علاقوں میں بھیجا جائے تا کہ از ہر یونیورسٹی کو جدید لباس پہنایا جا سکے اور اس میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کی تدریس کا بھی انتظام ہو سکے۔یہ تبدیلی دور رس نتائج کی حامل ہونی چاہئے تا کہ ” الا زہر ، علمی لحاظ سے ایک جدید یونیورسٹی کی شکل اختیار کرے جس میں صحیح خطوط پر آزادانہ بحثیں ہوں اور اس طرح دین قرآن کریم اور احادیث نبوی کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہو اور اسے محض علماء کی سند کی بجائے عقل کی تائید بھی حاصل ہو۔( اخبار اليوم عدد 299 مورخہ 28 جون 1952 ء بحوالہ روزنامہ ”الفضل“ لاہور 10 جولائی 1952 ء / 10 وفا 1331 ہش صفحہ (1)