مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 474 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 474

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول ( مفتی مصر) کو کوئی علم نہیں۔452 اس مسئلہ کے اور بھی کئی پہلو ہیں جو زیادہ خطرناک ہیں اور نتائج کے لحاظ سے سنگین بھی۔اسلامی اصول ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو کافر کہا وہ خود کافر ہو گیا۔ظفر اللہ خاں کا کفر جب تک ہم آنکھوں سے مشاہدہ نہ کر لیں اور اس بارہ میں ہمیں یقینی علم نہ حاصل ہو جائے ہمارے نزدیک مسلمان ہیں اور ان کا اسلام کامل ہے۔مفتی مصر نے خود اپنے آخری بیان میں اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ظفر اللہ خاں اعتدال پسند اور وقار کے حامل ہوں یہ امر بھی مفتی صاحب کو اس کے خلاف فتویٰ صادر کرنے کا حق نہیں پہنچاتا اور نہ ہی غیض و غضب اور لعنت ملامت کے نشانہ بنانے کا۔ہماری رائے ہے کہ مفتی صاحب نے ایک مسلمان کو کا فر ٹھہرایا ہے اور جس کسی نے کسی مسلمان کو کافر ٹھہرایا ہو وہ خود کا فر ہو جاتا ہے۔میں قارئین سے اُمید کرتا ہوں کہ وہ مجھے کسی کی تنقیص کا مرتکب نہ تصور کریں گے۔میں حقیقت کے اظہار میں سنجیدہ ہوں۔اس سلسلہ میں تمام ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔جہاں تک ظفر اللہ خاں کا تعلق ہے اس قسم کی کہی گئی باتوں سے اس کا کوئی نقصان نہیں۔لیکن یہ واقعہ اس امر کی ضرور یاد دلاتا ہے کہ لوگوں نے رسول عظیم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شان میں بھی کا ہن، ساحر ، صابی اور مجنون کے الفاظ استعمال کئے تھے۔وہ شخص جو استعماریت کا بڑی قوت ، بلاغت اور صدق بیانی سے مقابلہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ بھی جس کی زبان اور دل پر حق جاری کرتا ہے وہ بھی اگر کافر قرار دیا جا سکتا ہے تو نیک لوگوں کی اکثریت ایسے کافر بن جانے کی خواہش کرے گی۔(خالد محمد خالد ) اخبار المصری“ کا مقالہ خصوصی اخبار المصری نے اپنے مقالہ خصوصی (مورخہ 27 رجون 1952ء) میں بعنوان ظفر اللہ خاں“ لکھا:۔المصری کے قارئین اس کالم کے علاوہ کسی دوسری جگہ مصر میں پاکستان کے سفیر کے بیان کا مطالعہ کریں گے جس میں آپ نے مصری صحافت کی عزت افزائی کی ہے اور بالخصوص روز نامہ المصری کی جس نے اپنے اور پاکستان کے دوست مصری لوگوں کے خیالات کی